انوارالعلوم (جلد 11) — Page 266
انوار العلوم جلدا ۲۶۶ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل وجہ سے وہ حکومت کے تغیر کے خواہاں ہو رہے ہیں گو ان میں سے ایک حصہ ابھی اس قدر دلیر نہیں کہ حکام کے سامنے بھی یہ بات کہے ، لیکن اپنی مجالس میں وہ یہ باتیں ضرور کہتے ہیں ۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ خواہش عارضی اسباب کی وجہ سے ہے لیکن یہ دلیل اس خواہش کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتی۔ بالکل ممکن ہے کہ سلف گورنمنٹ میں ان مشکلات کا علاج نہ ہو سکے لیکن لوگ مشکلات میں یہ نہیں دیکھا کرتے کہ دوسری تدبیر کامیاب ہو گی یا نہیں ۔ وہ صرف یہ دیکھا کرتے ہیں کہ موجودہ تدبیر ہماری مشکلات کو دور نہیں کر سکی اور وہ اسے توڑ کر کوئی اور تدبیر جو خواہ کتنی ہی خلاف عقل کیوں نہ ہو اختیار کرنے کی طرف مائل ہو جایا کرتے ہیں۔ جس وقت انگلستان میں تحریک آزادی پیدا ہوئی ہے اس وقت بھی عارضی تکالیف ہی اس کی موجب تھیں۔ میگنا چارتا (MAGNA CHARTA) کا باعث اہالی انگلستان کا آئین سیاست کا مطالعہ نہ تھا بلکہ کنگ جان (KING JOHN) کے حقیقی یا خیالی مظالم سے بچنے کی خاطر انہوں نے میگنا چار ٹا حاصل کیا تھا۔ پس میگنا چارٹا آئین اساسی کے احساس سے پیدا نہیں ہوا بلکہ آئین اساسی میگنا چار ٹا کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ غرض یہ دلائل اقوام کے تغیر میں کام نہیں آتے اور نہیں آسکتے۔ آزادی کے سیاسی استحقاق کے لئے جس امر کو دیکھنا چاہئے وہ صرف ایک عام خواہش ہے اور وہ اس وقت ہندوستان میں پیدا ہو چکی ہے۔ اگر ہندوستان میں اس سوال کے متعلق عام رائے لی جائے تو جو لوگ اس صورت حالات کو تسلیم نہیں کرتے ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اور میرے نزدیک تو کانگریس کے بائیکاٹ کی تحریک نے بھی ایک حد تک ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں ایک عام خواہش حصول آزادی کی پیدا ہو چکی ہے۔ اور جب یہ خواہش پیدا ہو چکی ہے تو انگلستان کا دیانتدارانہ فرض ہے کہ وہ اب اس سوال کو مناسب طریق پر حل کرے۔ یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اس نئے تجربے میں نقصان ہونگے ۔ بے شک ہوں گے لیکن بقول لارڈ برائس :۔ غلطیاں ہونگی اور نقصان یقینا اٹھانا پڑے گا لیکن جب تک کسی قوم کو اس کا کوئی مضبوط ہمسایہ غلام نہیں بنا لیتا یا اپنے اندر جذب نہیں کر لیتا ناکامیاں شاذ و نادر ہی نا قابل اصلاح ہوتی ہیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خود مختار حکومت کی برکات میں سے یہ ایک برکت ہے کہ نقصان سے علم پیدا ہوتا ہے اور علم سے دانائی پیدا ہوتی ہے۔ جب کہ اس کے بر خلاف غیر حکومت خواہ کس قدر ہی خیر خواہ کیوں نہ ہو