انوارالعلوم (جلد 11) — Page 257
انوار العلوم جلد) ۲۵۷ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل برطانوی وزارت بھی اپنا اتفاق ظاہر کر چکی ہے۔ حکومت ہند وزارت برطانیہ اور پارلیمنٹ کے بعد بادشاہ کی شخصیت ہی رہ جاتی تھی کہ جن کی تصدیق صاف لفظوں میں اس اعلان کے متعلق نہ تھی۔ لیکن ۱۵ مارچ ۱۹۲۱ء کو حضور ملک معظم کی طرف سے گورنر جنرل ہندوستان کے نام جو ہدایت نامہ جاری کیا گیا اس میں صاف لفظوں میں اس اعلان کی طرف اشارہ کر کے نہ صرف اس کی تصدیق کی گئی ہے بلکہ اسے پسندیدگی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ ملک معظم تحریر فرماتے ہیں۔ دسویں۔ اوپر کے تمام امور کے لئے ہماری خواہش اور مرضی ہے کہ ہماری پارلیمنٹ نے جو اصول ہندوستان میں ایسی نیابتی حکومت کے قیام کے لئے جو ہماری مملکت کا جزو رہے تجویز کئے ہیں۔ ان پر اس طرح عمل کیا جائے کہ آخر کار اس کے نتیجہ میں برطانوی ہندوستان ہماری ڈومینینز (DOMINIONS) میں اس مقام کو حاصل کر سکے جس کا وہ حقدار ہے۔“ ان اعلانات سے ثابت ہوتا ہے کہ بادشاہ معظم، پارلیمنٹ، وزارت برطانیہ اور حکومتِ ہند سب کے سب اس امر کا اعلان کر چکے ہیں کہ ہندوستان میں ان کی حکومت کا طریق آئندہ ایسا ہوگا کہ جس کے نتیجہ میں ہندوستان کے مختلف حصص سلف گورنمنٹ (SELF GOVERNMENT) حاصل کر لیں گے اور ہندوستان بحیثیت مجموعی نیابتی حکومت حاصل کر لے گا۔ یہ ایک وعدہ ہے جس سے انگلستان اخلاقاً کسی صورت میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ اور اگر وہ " تدریجی " یا ایسے ہی الفاظ کی پناہ لے کر اس وعدہ س وعدہ کے پورا کرنے میں دیر کرے تو بھی گو وہ قانوناً زیر الزام نہ ہو لیکن اخلاقاً وہ بہت بڑی ذمہ داری کے نیچے آجائے گا اور اس چیز کو جو آخر میں حکومتوں کے نشان کے طور پر اکیلی باقی رہ جاتی ہے یعنی ” نیک نامی " ناقابل تلافی طور پر نقصان پہنچا دے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس اعلان میں درجہ نو آبادیات کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ نیابتی حکومت کا ہے اور ان دونو اصطلاحوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ گو اس فرق کی طرف توجہ دلانے والے بعض ایسے انگریز ہیں جن کو میں اپنا دوست سمجھتا ہوں لیکن میں اس میں ان سے اختلاف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اعلان مذکور کے تین جملے قابل غور ہیں۔ اول۔ ”ہندوستانیوں کی بڑھنے والی شمولیت تمام محکمہ جات میں" اس جملہ میں XXXXXXXXXXXXX