انوارالعلوم (جلد 11) — Page 251
ا تو ا ر ا لعلوم جلدا ۲۵۱ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل فوائد کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ (8) اس کے بہت سے اچھے حصے سائمن کمیشن کی رپورٹ میں شامل کر لئے گئے ہیں۔ (۲) باوجود اس کے کہ سائمن رپورٹ کی شدید مخالفت ہوئی ہے لیکن اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس رپورٹ کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ اس میں مناسب اصلاح کر کے ایک مفید اور قابلِ عمل اساسِ حکومت بنایا جا سکتا ہے۔ اور بعض پیچیدہ مسائل اس میں ایسے طریق پر حل کر دیئے گئے ہیں کہ جن کے بغیر ہندوستان میں کبھی امن نہیں ہو سکتا اور وہ صورت جو سائمن کمیشن نے تجویز کی ہے غالبا ہندوستانیوں کے منہ سے نکلی ہوئی کبھی بھی انگلستان کے لئے قابل تسلیم نہ ہو سکتی۔ پس انگلستان کی رائے کو آسانی سے متاثر کرنے کے لئے بعض معاملات میں مسلمان اور بعض میں ہندو سائمن رپورٹ کا نام لئے بغیر اس کے دلائل سے فائدہ اٹھانے پر مجبور ہونگے۔ پس ان حالات میں اس رپورٹ کو نظر انداز کرنا بالکل نا ممکن ہے اور کسی چیز کے اچھے حصے کو بھی اس کے بڑے حصے کی وجہ سے خراب اور بُرا کہنا خلاف دیانت ہے۔ پس میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی کارروائی کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سائمن کمیشن کی رپورٹ پر ریویو کروں۔ اسے سے سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ رپورٹ اس قدر بڑی نہیں جس قدر کہ اس خلاصہ سے ظاہر ہوتا تھا جو ہندوستان میں شائع کیا گیا۔ اس میں کئی جگہ غلطی بھی کی گئی تھی اور کئی جگہ اختصار کی وجہ سے مضمون واضح نہ ہوتا تھا۔ پس ان حالات میں ہر ایک شخص نے اس پر نہایت سختی سے تنقید کی اور انہی لوگوں میں سے ایک میں بھی ہوں۔ لیکن اصل کتاب کو پڑھنے کے بعد میری بھی رائے بدل گئی اور بہت سے دوسرے لوگ لوگوں کی بھی رائے بدل گئی۔ اس کو غور سے پڑھنے معلوم ہوتا ہے کہ قومی نقطہ نگاہ سے اس میں بہت سے اچھے امور بھی ہیں اور بہت سے بڑے امور بھی ہیں لیکن باوجود کمیشن کی اس رائے کے کہ یہ رپورٹ ایسے رنگ میں لکھی گئی ہے کہ یا اسے کلی طور پر قبول کرنا ہو گا یا کلی طور پر رد کرنا ہو گا میرے نزدیک اس کی ام نزدیک اس کی اصلاح آسانی سے ہو سکتی ہے ؟ ہے اور یہ رائے کہ اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی انہوں نے صرف نہرو ر! نہرو رپورٹ متأثر ہو کر لکھ دی ہے۔ میں نے اسے خوب غور سے پڑھا ہے اور میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اس کے بعض حصوں میں تبدیلی کر کے اور بعض کی جگہ پر بالکل اور قوانین تجویز کر کے ہم اس سکیم کو اختیار کر سکتے ہیں اور ت سے