انوارالعلوم (جلد 11) — Page 245
انوار العلوم جلد ۲۴۵ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کو مد نظر رکھتے ہوئے سائمن کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ دیباچه سائمن کمیشن (SIMON COMMISSION) کی رپورٹ پر تبصرہ کرنا ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو اس وقت ہندوستان اور انگلستان میں پیدا ہو رہے ہیں کوئی معمولی امر نہیں ہے کیونکہ ایک طرف ہندوستان کا ایک طبقہ اسے رجعت قہقری قرار دے رہا ہے تو دوسری طرف انگریزی قوم کا ایک حصہ اسے اندھیرے کی چھلانگ بتا رہا ہے۔ طبائع جوش میں ہیں نوجوان ہندوستان، آزادی کے خوشنما خواب دیکھ رہا ہے تو تجربہ کار انگلستان آہستگی اور احتیاط کا مشورہ دے رہا ہے۔ وہ اسے اپنی آزادی میں حائل قرار دے رہا ہے تو یہ اسے دیوانگی کے مرض میں مبتلا سمجھ رہا ہے ان حالات میں مشورہ دینا آسان کام نہیں۔ جب ایک خاص خیال انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے تو اچھی سے اچھی بات بھی اسے بُری معلوم دینے لگتی ہے اور وہ اپنے خیر خواہ کو بد خواہ سمجھ لیتا ہے لیکن باوجود اس کے میں موجودہ صورت حالات کو دیکھتے ہوئے خاموش نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ حقیقت کو معلوم کرنے کی طرف بہت کم توجہ ہے اور ایک دوسرے کی طرف سے دل اس قدر بغض و کینہ سے لبریز ہیں کہ حسن ظنی نام کو بھی باقی نہیں رہی ہے۔ ایک عام ہندوستانی انگریز کی ہر بات میں منصوبہ بازی اور دھوکا دہی کی کوئی چال محسوس کرتا ہے اور ایک عام انگریز ہر آزادی کے خواہشمند