انوارالعلوم (جلد 11) — Page 242
انوا را العلوم جلدا ۲۳۲ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت سردست مذہبی تعلیم اور تربیت تک محدود رہے تو اچھا ہو گا۔ لیکن میں اس بارہ میں کوئی حکم نہیں دینا چاہتا۔ صرف مشورہ دیتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک بہت سا نقصان اس وقت تک نا تجربہ کاری سے صوبہ کی انجمن کو ہوا ہے۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی ۱۳۔ دسمبر ۱۹۳۰ء نوٹ:۔ مقامی مجلس شوری کے مشورہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حسب ذیل نوٹ تحریر فرمایا : چونکہ استعفیٰ سے بعض دفعہ غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اس لئے استعفیٰ دینے سے پہلے بالا افسر سے مشورہ کر لینا ضروری ہے اور میرے نزدیک استعفیٰ کو استئذان سمجھنا موجب شر ہوگا۔ نیز میں اس امر سے بھی متفق نہیں ہوں کہ شوری کے متعلق تفصیلی احکام موجود نہیں ہیں۔ میرے نزدیک شوری کے متعلق رسول کریم میں ایم کا تعامل واضح ہے۔ چنانچہ جو مشورہ ایگزیکٹو ہوتا اس میں صرف اپنے انتخاب کردہ لوگوں سے رسول کریم میں یہ مشورہ لیتے تھے اور جو معاملہ تمام قوم پر اثر انداز ہوتا اس میں براہ راست سب لوگوں سے یا ان کے مقرر کردہ نمائندوں سے مشورہ لیتے۔ پس میرے نزدیک غور اور فکر سے ان سب امور کی تفصیل اسلام سے مل سکتی ہے۔ گو یہ امر صحیح ہے کہ مکان اور زمان کے تغیرات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام ۔ اسلام نے ایک حد تک ان امور میں تغیر کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔ مگر اصول ضرور واضح اور معین ہیں اگر وہ نہ ہوں تو ہم ہدایت کہاں سے حاصل کریں۔ خاکسار مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی مورخه ۲۵ جنوری ۱۹۳۲ء (الفضل ۱۱۔ فروری ۱۹۳۲ء)