انوارالعلوم (جلد 11) — Page 240
انوار العلوم جلدا ۲۳۰ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت غرض بهترین نظام جسے اگر صحیح طور پر چلایا جائے تو تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے امارت سے مقامی انتظام اور مرکز کی ضرورتیں دونوں پوری ہوتی کا انتظام ہے کیونکہ اس اس کے ذریعہ رہتی ہیں۔ امیر کے لئے ہر گز یہ شرط نہیں کہ وہ اس ملک کا باشندہ ہو۔ نہیں کہ ہم امیر خلیفہ کا نمائندہ ہے اسلام کے شروع زمانہ میں نوے فیصدی امراء مرکز سے مقرر ہو ، اور اب بھی ضرورت پر ایسا کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ ہمارے پاس روپیہ کر جاتے تھے او ر ا تنخواہیں دے سکیں اس لئے ہم ایسا نہیں کرتے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ضرورت پر ایسا نہ کیا جائے ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ امراء کے تقرر کے وقت مقامی لوگوں کے احساسات کا خیال رکھ لیا جایا کرے۔ پس اگر مقامی جماعت کے مشورہ کے بعد اور یہ دیکھ کر کہ مقرر کردہ امیر پر انہیں کوئی خاص اعتراض نہیں ہے باہر سے بھی امیر مقرر کیا جائے تو اس میں اسلامی نکتہ نگاہ سے کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ گو میرا طریق عمل یہ ہے کہ مقامی لوگوں میں سے ہی امیر مقرر کرتا ہوں۔ اور میری انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ امیر لوگوں کی رائے کے مطابق ہی مقرر کیا جائے مگر اس امر کو بہر حال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امیر پبلک کا نمائندہ نہیں ہے بلکہ خلیفہ وقت کا نمائندہ ہے۔ اس لئے خواہ لوگ کتنا بھی اصرار کریں یہ خلیفہ وقت کا اعتماد رکھنے والے شخص کو مل سکتا ہے اور اس میں وہی حکمت ہے کہ اسلامی نظام لم پر مبنی ہے نہ کہ قومیت پر ۔ خلیفہ کے انتخاب کے ذریعہ سے اتحاد عالم کرنے کا موقع دے دیا جاتا ہے اور پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ تمام عالم اسلام ایک ملک میں منسلک رہے اور قومیت کا سوال پیدا ہو کر اس میں رخنہ اندازی نہ کرے۔ یه عهده در حقیقت جمہور کی رائے کو ظاہر یہ اصول ہیں جن پر سلسلہ کا آئندہ نظام چلایا جائے گا اور سب صوبوں احمدی یاد رکھیں اور ملکوں کے احمدیوں کو انہیں یاد رکھنا چاہئے تا وہ دھوکا نہ کھائیں اور انہیں کوئی دوسرا شخص دھوکا نہ دے سکے۔ اصولی بحث کے بعد میں بنگال کے سوال کو لیتا ہوں۔ جہاں تک میں نے غور بنگال کا سوال کیا ہے میرے نزدیک کلکتہ چونکہ اس وقت بنگال کا سیاسی مرکز ہے ہمارے کام بھی سہولت سے چل سکتے ہیں کہ اسی کو ہم اپنا مذہبی مرکز قرار دیں ۔ اگر ہمارے لئے ممکن ہو تا کہ ہم پورے وقت کا امیر مقرر کر سکتے اور اس کے ساتھ عملہ بھی پورے وقت کا د کا دے سکتے