انوارالعلوم (جلد 11) — Page 226
انوار العلوم جلدا ۲۲۶ عرفان الہی اور محبت باللہ کا عالی مرتبہ ہوں۔ اسے رسول کریم ملی الم سے سن کر بھی اللہ یاد نہ آیا ۔ مگر رسول کریم میں ہم نے اسے کہا جاؤ اور چھوڑ دیا ۔ یہ عرفان الہی کا ہی نتیجہ تھا اور جب تک کامل عرفان حاصل نہ ہو اس وقت تک اس طرح نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح ایک اور جنگ کے موقع پر جسے حنین کی جنگ کہتے ہیں اور جس میں کچھ کو مسلم اور کچھ غیر مسلم بھی شامل تھے۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد ۱۲ ہزار تھی اور دشمن کی تعداد چار ہزار مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ایسی شکست ہوئی کہ وہ کہتے ہم اونٹوں کو پیچھے کی طرف موڑتے اور نکیل کھینچنے سے ان کے سر پیٹھ کے ساتھ جا لگتے ۔ مگر جب چلاتے تو آگے کی طرف ہی دوڑتے۔ اس وقت رسول کریم میں کے ارد گرد صرف باره آدمی رہ گئے ۔ بعض صحابہ نے اس وقت رسول کریم میں کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہا اور واپسی کے لئے کہا۔ مگر آپ نے انہیں جھڑک دیا اور حضرت عباس کو کہا لوگوں کو آواز دو کہ جمع ہو جائیں اور خود دشمن کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھے۔ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ؟ میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ یہ ایسا وقت تھا جب کہ وہ جانباز مسلمان سپاہی جو نہایت قلیل تعداد میں ہوتے ہوئے سارے عرب کو شکست دے چکے تھے۔ بارہ ہزار کی تعداد میں ہوتے ہوئے چار ہزار کے مقابلہ سے بھاگ نکلے تھے ۔ جب رسول کریم میں ایم کے ارد گرد صرف چند آدمی رہ گئے تھے۔ جب ہر طرف سے دشمن بارش کی طرح تیر برسا رہے تھے۔ آپ آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے ۔ اس وقت آپ نے یہ سمجھا کہ میرا یہ فعل دیکھ کر لوگ مجھے ہی خدا نہ سمجھ لیں۔ اس لئے آپ نے فرمایا۔ میں نبی ہوں۔ ہاں اپنے اندر خدا کو دیکھ رہا ہوں۔ لوگ مجھے خدا دیکھ رہے ہونگے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ اَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ میں نبی ہوں اور عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ خدا نہیں ہوں۔ یہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفان کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ پھر کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان زندگی بھر دھوکا میں مبتلا رہتا ہے مگر موت کے وقت اس پر اصل بات کھل جاتی ہے عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایسے ملئم جو دماغ کی خرابی کی وجہ سے الہام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مرنے سے قبل معافی کے خط لکھ دیتے ہیں اور تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ غلطی میں مبتلا تھے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عرفان اس درجہ کمال پر تھا کہ آپ کی