انوارالعلوم (جلد 11) — Page 219
انوار العلوم جلدا ۲۱۹ عرفان الهی اور محبت باللہ کا عالی مرتبہ ہے۔ اس لئے کوئی بات ایسی نہیں کہنی چاہئے جس میں شرک کا ایک شائبہ بھی پایا جاتا ہو۔ ہمیں محمد سلیم کی ذات سے محبت اس لئے ہے کہ آپ کی ذات خدا نما ہے۔ اگر خدا نمائی کو آپ کی ذات سے علیحدہ کر دیا جائے۔ تو پھر آپ بھی ایسے ہی انسان ہیں جیسے دوسرے انسان۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بعض اشعار میں بے شک ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جس میں رسول کریم ملی ام کی روح کو مخاطب کیا ہے مگر ملئم اور غیر ملئم کے کلام میں فرق ہوتا ہے۔ ملئم جسے مخاطب کرتا ہے اسے اپنی آنکھ سے اپنے سامنے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ کہ میں نے جاگتے ہوئے حضرت علی حضرت حسین اور حضرت فاطمہ سے باتیں کیں۔ پس اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ اے رسول الله ! یہ بات یوں ہو تو یہ سچ ہے لیکن وہ جسے یہ حالت حاص حاصل نہیں وہ اگر یہ کہتا ہے کہ اے رسول اللہ ! آپ کی مجھ پر نظر عنایت ہو۔ تو غلط کہتا ہے ۔ نظر عنایت خدا ہی کی ہوتی ہے۔ ہم مشرک نہیں اس لئے ہم خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی پرستش کرنے کے لئے تیار نہیں۔ خواہ محمد سلم کی ذات ہی کیوں نہ ہو ۔ ہماری جماعت کے شاعروں کو اپنے کلام میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے اگر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی ۔“ رض الله ९९ حفظ مراتب کرنا ہمارا فرض ہے۔ پس ضروری ہے کہ جس امر کی حفاظت کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں ہر حال میں اس کی حفاظت کریں۔ لیکن اگر وہی چیز جس کی حفاظت کے لئے رسول کریم میں کھڑے ہوئے اسے ضائع کر دیتے ہیں تو پھر رسول کریم ملی ایم کی شان کے اظہار سے ہمیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد میں اصل مضمون کو لیتا ہوں جو اس سال کے جلسوں کے لئے خصوصیت سے مقرر کیا گیا ہے اور جو یہ ہے کہ ” عرفانِ الہی اور محبت باللہ کا وہ عالی مرتبہ جس پر رسول کریم میں یہ دنیا کو قائم کرنا چاہتے تھے ۔ " عرفان عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پہچاننے اور شناخت کرنے کے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کی نسبت کم از کم ایک مسلمان یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ وراء الوراء ہستی ہے اور مجسم نہیں۔ اس لئے ممکن نہیں کہ انسانی آنکھیں اسے دیکھ سکیں ۔ یا انسانی ہاتھ اسے چھو سکیں۔ یا دوسرے ظاہری حواس اسے محسوس کر سکیں۔ پس وہ ذات جس کے متعلق یہ یقین ہو کہ وہ نہ آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہے۔ نہ ہاتھوں وں سے چھوٹی جا سکتی ہے اس کے پہچاننے کا کیا مفہوم ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں یقینی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے پہچاننے کا وہ مفہوم نہیں ہو سکتا جو دوسری چیزوں کے