انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 190

و تو ا را لعلوم جلد !! ۱۹۰ گول میز کانفرنس اور مسلمانوں کی نمائندگی کر آئیں۔ قوموں کی آزادی ایسی چیز نہیں جس سے خطرناک عواقب میں مبتلا ہوئے بغیر کوئی گورنمنٹ خواہ وہ کس قدر ہی زبردست کیوں نہ ہو کھیل سکے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ پوری دیانتداری سے کام کرے گی اور احتیاط سے ممبروں کا انتخاب کرے گی۔ مگر بہر حال اگر گورنمنٹ نے نیابت کا کوئی صحیح طریق اختیار نہ کیا تو وہ گورنمنٹ کے منتخب کردہ ممبر ہوں گے نہ کہ قوم کے نمائندے۔ اور اگر کوئی قوم اس امر پر راضی نہیں ہو سکتی کہ اسمبلی یا کونسل میں جس کا کام بالکل محدود ہے کوئی شخص گورنمنٹ کی طرف سے نامزد ہو کر اس کا نمائندہ کہلائے تو راؤنڈ ٹیبل کانفرنس جس نے ایک مستقل فیصلہ کرنا ہے اور حکومت کے اصول طے کرنے ہیں اس کے ممبروں کے متعلق کس طرح کوئی قوم اس کو خوشی سے قبول کرلے گی که گورنمنٹ ہی اس کی طرف سے اس کے نمائندوں کو تجویز کر دے۔ پس میں امید کرتا ہوں کہ گورنمنٹ پچھلی شورشوں سے سبق حاصل کر کے ایسی غلطی کا ارتکاب نہیں کرے گی جس کا کوئی علاج اس کے ہاتھ میں باقی نہ رہے گا۔ گورنمنٹ کو اس کے فرض کی طرف توجہ نمائندوں کا ا روں کا انتخاب کس طرح کیا جائے دلانے کے بعد یہ سوال رہ جاتا ہے۔ کہ اگر اس کانفرنس کے لئے نمائندوں کا انتخاب کرنا ہی ہو تو کس طرح کیا جائے۔ کیونکہ کوئی ایسی مشینری ہمارے پاس موجود نہیں جس سے مدد لے کر ہم ملک کی صحیح رائے معلوم کر سکیں۔ میرے نزدیک گو یہ صحیح ہے کہ اس قسم کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس موجود نہیں لیکن پھر بھی موجودہ حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض ذرائع ایسے اختیار کئے جاسکتے ہیں جن کی مدد سے مختلف اقوام کی نمائندگی ایک حد تک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں ہو سکے اور وہ ذرائع یہ ہیں۔ گورنمنٹ تمام صوبہ جات کی کونسلوں کو نسلوں سے نمائندے طلب کئے جائیں کے ہندو، سکھ اور مسلمان ممبروں خواہش کرے کہ وہ اپنی کثرت رائے سے ایک یا دو نمائندے (جو تعداد بھی گور نمنٹ مقرر کرے) ایسے تجویز کریں جو ان کی طرف سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں پیش ہوں۔ اور اس طرح مرکزی مجالس سے بھی وہ اس امر کی درخواست کرے۔ آگے ہر ایک قوم کی کونسلوں یا مرکزی مجالس کے ممبروں کو چاہئے کہ وہ اس شخص کو اپنا نمائندہ منتخب کریں جو اس امر کا اقرار کرے کہ وہ اپنے آپ کو ان کا نمائندہ سمجھے گا نہ کہ اپنے ذاتی حق پر جانے والا۔ جہاں تک میرا