انوارالعلوم (جلد 11) — Page 181
انوار العلوم جلدا A شہرہ کمیٹی کی تمہ ، پورٹ پر مختصر تبصرہ بدلنے کے لئے یہ ضروری ہونا چاہئے کہ کُل منتخب شدہ ممبروں کی تعداد سے ۴/۵ حصہ کے اتفاق سے اس میں تغیر کیا جائے نہ کہ حاضر الوقت ممبروں میں سے ۴/۵ کے اتفاق سے کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ کسی وقت کسی اختلاف کی وجہ سے ایک حصہ ممبروں کا اسی طرح عدم تعاون میں مشغول ہو جس طرح آج کانگریسی لوگ مشغول ہیں۔ اور اس سے فائدہ اٹھا کر کثیر التعداد جماعت اپنے مطلب کے مطابق قانون اساسی میں تغیر کرے۔ حاضر الوقت ممبروں میں سے ۴/۵ کے اتفاق کے ساتھ قانون اساسی کا بدل جانا اس قانون کو نہایت ہی بودی بنیادوں پر قائم کر دیتا ہے۔ فرقه دارانه انتخاب ہیں :۔ " ساتواں تغیر فرقہ وارانہ انتخاب کے عنوان کے نیچے مادہ ۳ کے حصہ الف کے سچے کیا کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ بڑھائے گئے پنجاب اور بنگال میں کسی قوم کی نشستیں محفوظ نہیں کی جائیں گی مگر یہ شرط ہو گی کہ فرقه دارانه انتخاب کا سوال اگر کسی قوم نے اٹھایا تو دس سال کے تجربے کے بعد پھر دوبارہ زیر بحث آسکے گا۔" یہ زیادتی بالکل بے معنی زیادتی ہے۔ نیابتی حکومت میں بہر حال کثرت رائے کا فیصلہ جاری ہوگا۔ اس قانون میں اقلیتوں کو بالکل یہ حق نہیں دیا گیا کہ اگر وہ اصرار کریں تو دس سال کے بعد انہیں محفوظ نشستوں کا حق دے دیا جائے گا۔ بلکہ صرف یہ ہے کہ یہ سوال پھر زیر بحث آسکتا ہے۔ زیر بحث آنے کے بعد اگر مرکزی حکومت کی ہندو میجارٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ اس قانون میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں تو نہرو کمیٹی کے ممبر ہمیں سمجھائیں کہ مسلمانوں کے لئے اپنے حقوق کے واپس لینے کا کونسا رستہ کھلا ہو گا۔ پس یہ زیادتی بالکل دھوکا دینے والی ہے اور لفظی فریب سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ آٹھواں تغیر اصل فرقہ وارانہ عنوان کے نیچے ساتویں مادے میں کیا گیا ہے۔ اس مادے کے الفاظ یہ تھے ۔ 71 جس جس جگہ پر بعض قوموں کے لئے نشتوں کو محفوظ کر دیا گیا ہے ان مقامات پر صرف دس سال کے لئے یہ قانون جاری رہے گا۔“ اس میں اب یہ زیادتی کی گئی ہے کہ :۔