انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 171

انوار العلوم جلدا 121 ندائے ایمان (1) أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ - ندائے ایمان (نمبر) اے بھائیو! آپ کو معلوم ہو گا کہ آج سے قریباً پچاس سال پہلے حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ الصلوة والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر دنیا کی اصلاح کا کام شروع کیا تھا۔ آپ اس امر سے : ناواقف نہیں ہو سکتے کہ جس وقت خدا تعالیٰ کے اس بہادر نے اسلام کی خدمت کا بیڑا اٹھایا تھا اس وقت کیا اپنے اور کیا پرائے سب کے سب اس کی مخالفت پر کمربستہ ہو گئے تھے حتی کہ خود اس کے عزیز اور نہایت قریبی رشتہ دار تک اس کو تباہ اور برباد کرنے کے لئے کوشاں تھے اور اسے ثواب کا موجب اور رضائے الہی کا باعث خیال کرتے تھے۔ ہر ایک جو اس زمانہ کے حالات سے آگاہ ہے بیان کرے گا کہ اس وقت لوگوں کا یہی خیال تھا کہ اگر مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے دعوی سے توبہ نہ کی تو ان کی تباہی ایک قلیل عرصہ میں یقینی اور قطعی ہے۔ اور بہت تھے جنہوں نے اپنے خیالوں سے آپ کی تباہی کے متعلق وقت کی تعیین بھی کر دی تھی اور علی الاعلان لاف زنی کرتے تھے کہ دو یا تین سال میں آپ کا نام و نشان تک مٹ جائے ئے گا اور آپ کا دعوئی ایک قصہ اور کہانی ہو جائے گا۔ یہ لاف زنیاں اگر منہ کی باتوں تک رہتیں تب بھی بات تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے ان دعووں کو پورا کرنے کے لئے عملاً بھی سارا زور لگایا اور مخالفت میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ وہ لوگ جو ایک مجلس میں بیٹھنا حرام سمجھتے تھے آپ کی مخالفت میں سگے بھائیوں سے بھی زیادہ متحد نظر آنے لگے اور جن مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے نظر آتے تھے آپ کو نقصان پہنچانے کی خاطر