انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 166

انوار العلوم جلد !! 144 فضائل القرآن (۲) رَبِّ الْعَلَمِينَ سے ہوتی ہے۔ اس طرح دنیا کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ساری دنیا کے رب کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب کو اپنی طرف بلاتی ہے۔ غرض اسلام نے سب لوگوں کو جو علیحدہ علیحدہ تھے ماں کی طرح اکٹھا کیا اور کہہ دیا کہ ایک خدا کے پاس آجاؤ ۔ پہلے لوگوں میں شرک پیدا ہونے کی یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ الگ الگ خدا سمجھتے تھے۔ ہندو کہتے تھے کہ ہمارا خدا ایسا ہے یہود کہتے تھے ہمارا خدا ایسا ہے پارسی کہتے تھے کہ ہمارا خدا ایسا ہے۔ پھر بعض لوگوں نے کہا کہ چلو سب کے خداؤں کو پوجو تاکہ سب سے فائدہ حاصل ہو۔ اس طرح شرک پیدا ہو گیا۔ مگر اسلام نے بتایا کہ مومن اور کافر سب کا خدا ایک ہی ہے۔ اور اسلام کسی خاص قوم کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے - يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبْرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةِ یعنی اسلام کا چراغ ایک ایسے برکت والے تیل سے جلایا جا رہا ہے جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی۔ ہر قوم اور ہر زمانہ کیلئے ہے۔ سب کیلئے اس میں ترقیات کے دروازے کھلے ہیں۔ اس طرح اسلام نے قومیت کے امتیاز کو مٹا دیا اور بڑائی کا معیار یہ رکھا کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ ۵ کہ اسلام میں بڑائی کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ خواہ کوئی کیسی ہی ادنی قوم کا فرد ہو اگر وہ متقی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ہے۔ پس اسلام نے ذات پات کو مٹا دیا اور مختلف مذاہب کے نتیجہ میں جو تفرقے پیدا ہوتے تھے ان کو دور کر دیا۔ میں نے فضیلت دوستوں کو چاہئے کہ قرآن کریم کو اپنا دستور العمل بنائیں قرآن کی ۲۶ و جوابات میں سے اس وقت صرف چھ کا ذکر کیا ہے اور ان کی بھی ایک ایک مثال دی ہے۔ خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو باقیوں کے متعلق پھر بحث کرونگا۔ فی الحال اسی پر بس کرتا ہوں۔ اور دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسی افضل اور بے نظیر کتاب پر عمل کرنے اور اس کے احکام کو حرز جان بنانے کی کوشش کرو۔ اس وقت میں قرآن کریم کے جن مطالب کو واضح کر سکا ہوں ان کے مقابلہ میں اور کوئی کتاب ایسے مطالب پیش نہیں کر سکتی۔ دوستوں کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی اس کتاب کی طرف خاص طور پر توجہ کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی انسان کے پاس بہتر سے بہتر چیز ہو لیکن وہ استعمال نہ کرے تو اسے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کنواں موجود لیکن ہم پانی نہ نہ پیٹیں تو کس طرح پیاس بجھ سکتی ہے۔ ہے۔ پس یہ اعلیٰ درجہ کی کتاب جو تمہارے پاس موجود ہے یہ اس صورت میں مفید ہو سکتی ہے جب کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ ہو