انوارالعلوم (جلد 11) — Page 164
انوار العلوم جلدا الله فضائل القرآن (۲) صرف صدیق اور شہداء بنتے تھے مگر اس نبی کی اطاعت سے نبوت کا درجہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ حضرت داؤد اور حضرت عیسی نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے نبوت ملی ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا اور بار بار اس کا اعلان کیا کہ مجھے محض رسول کریم میں تعلیم کی غلامی میں درجہ نبوت حاصل ہوا ہے۔ بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ یہاں انبیاء اور صدیقین وغیرہ کی معیت کا مفہوم مَعَ الَّذِينَ آیا ہے جس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ اور اس رسول کی اطاعت سے کوئی نبی بن سکتا ہے بلکہ یہ ہے کہ قیامت کے دن اسے ان انبیاء کی معیت حاص حاصل ہوگی۔ اس کا ایک جواب تو یہ تو یہ ہے کہ اگر نبی بننے کی نفی کی جائیگی تو اس کے ساتھ ہی صدیق ، شہید اور صالح بننے کی نفی بھی کرنی پڑے گی۔ اور یہ ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِالله امت محمدیہ میں اب کوئی صدیق شہید اور صالح بھی نہیں بن سکتا۔ لیکن اگر صالحیت ، شہادت اور صدیقیت کا مقام حاصل ہو سکتا ہے تو پھر نبوت کا انعام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن اس پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن کریم کا کوئی لفظ حکمت کے بغیر نہیں ہے تو پھر یہاں مع کا لفظ لانے کی کیا ضرورت تھی۔ جیسا کہ دوسری جگہ مَعَ الَّذِينَ نہیں رکھا بلکہ صرف یہ فرمایا کہ وہ صدیق اور شہید ہونگے۔ اسی طرح یہاں بھی کہا جا سکتا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مَعَ رکھ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اس رسول کی اطاعت کرنے والے صرف صدیق ہی نہیں ہونگے بلکہ سب امتوں کے صدیقوں کی خوبیاں ان میں آ جائینگی۔ صرف شہید ہی نہیں ہونگے بلکہ پہلے سب شہیدوں کی صفات کے جامع ہونگے۔ صرف صالح ہی نہیں ہونگے بلکہ پہلے صالحین کی سب خوبیاں اپنے اندر رکھتے ہوں گے اسی طرح جو نبی آئے گا وہ پہلے سب نبیوں کی خوبیوں اور کمالات کا بھی جامع ہو گا۔ پس مع نے رسول کریم سلم کی اطاعت کے نتیجہ کو بڑھا دیا ہے گھٹایا نہیں ۔ اور بتایا ہے کہ محمد رسول اللہ میں ایم کی اطاعت سے جو مرتبہ حاصل ہوتا ہے وہ پہلے لوگوں کے مراتب سے بہت اعلیٰ اور ارفع ہے۔ (۵) ایک اور وجہ فضیلت یہ ہوتی ہے کہ جو چیز پیش کی ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک کلام جائے اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو ۔ قرآن کریم کی میں قسم نہ ۔ فضیلت اس لحاظ سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں ایک آیت ہے جس کے متعلق لوگ بحث کرتے رہتے ہیں کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔ آج میں یہ بتاتا ہوں کہ یہ بتاتا ہوں کہ وہ اپنے مطالب کے