انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 159

انوار العلوم جلدا ۱۵۹ فضائل القرآن (۲) چنانچہ وہ اس دنیا سے آواز دیتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلَّ سَبِيلاً یعنی یہ یاد رکھو کہ نماز روزہ حج اور زکوۃ وغیرہ کی غرض یہ ہے کہ انسان خدا کو پالے کیونکہ مذہب کا مدعا یہ ہے کہ انسان خدا کو دیکھ لے۔ اور اگر اس دنیا میں خدا کسی کو نظر نہیں آتا تو اگلی دنیا میں بھی نظر نہیں آئے گا۔ خدا کو دیکھنے کی اس دنیا میں بھی ضرورت ہے۔ اگر ایک انسان سب عبادات بجالاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اسے نظر نہیں آتا تو صاف معلوم ہوا کہ عبادت کا جو اصل مقصد ہے وہ پورا نہیں ہوا۔ اور جو شخص اس دنیا میں خدا کو دیکھنے سے اندھا رہا وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا اور اسے وہاں بھی خدا نظر نہیں آئے گا۔ اضل سبیلا کے معنی یہ ہیں کہ اگلے جہان میں اس کی نابینائی اور بھی بھیانک ہوگی کیونکہ وہاں تو بہ کا کوئی موقع نہ ہو گا۔ پھر وہ آخرت سے آواز دیتا ہے کہ يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ آخرت سے آواز وَالْمُؤْمِنَتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ بُشْرُكُمُ الْيَوْمَ جَنَّتَ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَلِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ يَوْمَ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالْمُنْفِقْتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْظُرُ وَنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِ كُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَّهُ بَابَ بَاطِنُهُ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ - ١٣ یعنی اس روز تو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے سامنے بھی اور ان کے دائیں طرف بھی بھاگتا جائے گا۔ اس میں بتایا کہ اگلے جہان کی ترقیات بہت جلدی جلدی ہونگی نور تیز تبھی ہو گا جب کہ ساتھ چلنے والے بھی تیز ہونگے ۔ وہ نور بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمَانِهِمْ رہے گا یعنی ان کے دائیں بائیں بھی نور ہو گا اور آگے بھی۔ گویا اس میں ترقیات کی رفتار کی تیزی اور اس تیزی میں مومنوں کے ہم قدم رہنے کی طرف اشارہ ہے ۔ بُشر بكُمُ الْيَوْمَ خدا تعالیٰ کے فرشتے انہیں کہیں گے کہ آج تمہارے لئے بشارت ہے ۔ جَنَّتُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خُلِدِينَ فِيهَا ان جنات اور قسم قسم کے باغوں کی جن میں نہریں بہہ رہی ہیں۔ يَوْمَ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالْمُنْفِقْتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّورِ كُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَ كُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ تم تو دوڑے جا رہے ہو ذرا ہمارا بھی انتظار کرو۔ ہم بھی تم سے نور لے لیں۔