انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 144

انوار العلوم جلد ! ما فضائل القرآن (۲) تھا۔ لیکن جب رحمن کے معنوں کو قرآن کریم نے بیان کیا تو وہ حیران رہ گئے۔ اور چونکہ ان معنوں کے رو سے ان کے مذہب پر زد پڑتی تھی صاف کہہ اٹھے کہ ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے ۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمَنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُورًا ٦ کو جب انہیں کہا جاتا ہے کہ رحمن کی عبادت کرو۔ تو وہ کہتے ہیں رحمن کون ہے۔ کیا ہم اس کے آگے سجدہ کریں جس کے آگے سجدہ کرنے کا تو حکم دیتا ہے۔ اور یہ بات ان کو نفرت میں اور بڑھا دیتی ہے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ وہ رحمن کے اور معنی کرتے تھے ۔ چنانچہ آگے اللہ تعالی نے اس کے معنی بھی کر دیئے اور بتا دیا کہ ان معنوں میں ہم رحمن کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اور ان معنوں سے رد کرتے ہیں۔ فرماتا ہے۔ تَبْرَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَ جَعَلَ فِيْهَا سِرْجًا وَ قَمَرًا مُنِيرًا - را وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ اَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا یعنی رحمن تو وہ ہے جس نے آسمانوں میں بروج بنائے اور ان میں چمکتا ہوا سورج اور نور دینے والا چاند بنایا ۔ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا۔ مگر ان کے لئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہیں یا شکر گزار بندے بننا چاہیں۔ یہاں رَحْمن کی تشریح کر دی۔ اور مطلب بیان کر دیا کہ رحمن سے مراد خدا تعالیٰ کی وہ صفت ہے جو انسان کے عمل سے بھی پہلے اس کے لئے کام شروع کر دیتی ہے۔ چنانچہ بتایا۔ دیکھو ہم نے چاند اور سورج کو انسان کے پیدا ہونے سے پہلے بنایا۔ اور پھر اس کی ضرورت بھی بیان کر دی۔ اور وہ یہ کہ انسان کو عمل کرنے کے لئے اسباب کی ضرورت ہے۔ اگر اسباب نہ ہوں تو وہ عمل کس طرح کر سکے ۔ مثلاً بڑھتی ہو لیکن لکڑی نہ ہو تو وہ کیا کر سکتا ہے۔ پس ضروری تھا کہ انسان پر اس کے اعمال شروع کرنے سے قبل انعام ہوتا۔ اور انعام کے طور پر اس کے لئے اسباب مہیا کئے جاتے تاکہ وہ عمل کر سکتا۔ پس یہ کہنا غلط ہے کہ دنیا کی ہر چیز انسان کے عمل کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔ کیونکہ عمل ہو ہی نہیں سکتا جب تک پہلے کچھ انعام نہ ہو ۔ پھر یہ وجہ بتائی کہ رحمانیت کی ضرورت انسان کے شُکور بننے کے لئے ہے۔ شُکور کے لئے عمل کی شرط ہے۔ اور عمل بغیر رحمانیت کے نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کی یہ صفت نہ ہوتی اور وہ بلا مزد انعام نہ کرتا تو انساں اپنے پیدا کرنے والے کا شکر بھی ادا نہ کر سکتا اور ایک بلا عمل ہستی