انوارالعلوم (جلد 11) — Page 142
انوار العلوم جلدا ۱۳ فضائل القرآن (۲) جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور وہی رَبُّ الْعَلَمِينَ ہے۔ صَوَّرَكُمْ میں یہ بھی بتایا ہے کہ بندہ ایسا بنایا گیا ہے کہ باقی سب مخلوق پر حکومت کرتا ہے۔ یہ جسمانی ثبوت ہے خدا تعالیٰ کے رَبُّ الْعَلَمِينَ ہونے کا۔ روحانی ثبوت سورة شعراء خدا تعالیٰ کے رَبُّ الْعَلَمِينَ ہونے کا روحانی ثبوت میں اس طرح دیا کہ بہت سے نبیوں کا ذکر کرتے ہوئے جو مختلف اقوام کی طرف آتے تھے فرمایا وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعُلَمِينَ - نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ - عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ بِلِسَانِ عَرَبِيّ مُّبِيْنٍ - وَإِنَّهُ لَفِى زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ٢٢٥، یعنی یہ قرآن رَبُّ الْعَلَمِينَ خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے اور اس کا روحانی ثبوت یہ ہے کہ یہ کلام سب دنیا کو مخاطب کر کے نازل ہوا ہے۔ جب کہ پہلے کلام صرف مختص القوم اور مختص الزمان تھے اور جب کہ وہ کلام صرف اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ثبوت تھے۔ یہ کلام ربوبیت عالمین کا ثبوت ہے۔ غرض یہ قرآن کسی ایک قوم کی طرف نہیں آیا کیونکہ اسے خدا تعالیٰ کی رَبُّ الْعَلَمِينَ کی صفت کے ماتحت نازل کیا گیا ہے اور تمام دنیا اس کی مخاطب ہے۔ پھر اس کلام کو روح الامین لے کر نازل ہوا ہے۔ یعنی پہلے نبیوں کے کلام میں خرابیاں آگئی تھیں کیونکہ بندوں نے ان کی حفاظت نہ کی۔ پس خدا تعالیٰ نے اس روح کے ذریعہ سے جو امین ہے۔ محفوظ طور پر وہ پہلے کلام آپ پر نازل کئے ہیں۔ اور چونکہ کلام کے پہنچانے کے لئے اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے تا کہ پہنچانے میں کوئی نقص نہ رہ جائے اس لئے یہ کلام تیرے دل پر نازل کیا گیا ہے۔ غرض بائیبل اور دید وغیرہ کتابیں سب خراب ہو چکی تھیں۔ مگر خدا تعالیٰ کے پاس اصلی تعلیم محفوظ تھی۔ چنانچہ اس نے روح الامین کے ذریعہ اس کلام کو تیرے دل پر نازل کیا تاکہ لوگوں کا جرأت کے ساتھ مقابلہ کر سکے یہ کلام عربی زبان میں ہے جو تمام مضامین کو کھول کر بیان کرنے والی ہے۔ اور اس کے رَبُّ الْعَلَمِينَ کی طرف سے ہونے کا کا یہ ثبوت ہے کہ یہ کلام پہلی کتب میں بھی موجود ہے۔ اس رنگ میں بھی کہ ان کے اصول اس میں پائے جاتے ہیں اور اس رنگ میں بھی کہ ان سب کو اکٹھا کر کے اس میں بیان کر دیا گیا ہے۔ گویا اس میں تمام غیر مسلم اقوام کی ذہنیت کا خیال رکھا گیا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ رَبُّ الْعَلَمِینَ کی طرف سے ہے۔ اگر یہ رَبِّ الْعَلَمِینَ کی طرف سے نہ ہو تا تو یہ ساری دنیا کی فکر کیوں