انوارالعلوم (جلد 11) — Page 138
انوار العلوم جلدا ۱۳۸ فضائل القرآن (۲) دوم ۔ ان ضرورتوں کو پورا کرنے کا سامان کرے۔ سو یاد رکھنا چاہئے کہ مذہب کی قرآن کریم سے پانچ ضرور تیں مذہب کی پانچ ضرورتیں ثابت ہوتی ہیں۔ اول: وجودِ باری تعالی کا ثبوت اور اس کی صفات کا علم ۔ دوم :۔ انسان کی روحانی طاقتوں کا بیان اور ان کا ثبوت۔ سوم : ان امور کا بیان جو روحانی طاقتوں کی تکمیل اور امداد کیلئے ضروری ہیں۔ چهارم :- انسانی زندگی کے مال کا بیان اور اس کا ثبوت۔ پنجم: مذکورہ بالا امور میں نہ صرف علمی طور پر روشنی بخشنا بلکہ عملاً بھی خدا تعالٰی سے وصال کرانا اور روحانی طاقتوں کو مکمل کرانا اور حیات اُخروی کے فوائد سے بہرہ ور کرانا۔ یہ ضرور تیں جو اسلام نے بیان کی ہیں باقی مذاہب بھی اس امر میں اس سے متفق ہیں گو اس مقصد کے پورا کرنے میں قرآن کریم منفرد ہے۔ کوئی مذہبی کتاب اس بارہ میں اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھر سکتی۔ تو رات کو شروع سے آخر تک پڑھ جاؤ ، انجیل کو پڑھ جاؤ، دید کو پڑھ جاؤ بس یہ معلوم ہو گا کہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب دنیا مانتی ہے اور اس کی ذات میں کسی شک کی گنجائش نہیں مگر اس کا ثبوت وہ کوئی نہیں دیتیں۔ اسی طرح اس کی صفات کے متعلق اس قدر قلیل روشنی ڈالی گئی ہے کہ انسانی نفس اس سے قطعا تسلی نہیں پا سکتا۔ پس ضرورت تھی کہ اللہ تعالٰی کی ہستی کا علم دیا جائے اور پھر اس کے دلائل دیئے جائیں۔ زیادہ سے زیادہ دو سری کتب نے کوئی ثبوت دیا ہے تو معجزات سے دیا ہے۔ بیشک اس سے اللہ تعالٰی کا وجود تو ثابت ہو جاتا ہے مگر اس کی ہر صفت ثابت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی کتاب خدا تعالیٰ کو غَفُور کہتی ہے تو ضروری ہے کہ وہ خدا کے غَفُور ہونے کا ثبوت بھی پیش کرے۔ اگر رَحِيم قرار دیتی ہے تو اس بات کا ثبوت دے کہ وہ رَحِیم ہے۔ غرض باقی مذاہب نے اس اصل الاصول کو جس پر مذہب کی بنیاد ہے بالکل معمل چھوڑ دیا ہے اس کے مقابل پر قرآن کریم کو دیکھو۔ وہ نہ صرف اللہ تعالی کے وجود کو پیش کرتا ہے بلکہ اس کے ثبوت بھی دیتا ہے۔ اور نہ صرف اس کا ثبوت دیتا ہے بلکہ اس کی سب صفات کا ثبوت دیتا ہے۔ اور اس طرح وہ ایک نیا اصل پیش کرتا ہے۔ جو یہ ہے کہ جس قدر صفاتِ الہیہ بندہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں ان کا الگ ثبوت ضروری ہے ورنہ خدا تعالیٰ کا وجود تو ثابت ہو گا مگر اس کی صفات کا ثبوت نہ