انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 136

انوار العلوم جلد 1 ۱۳۶ فضائل القرآن (۲) عیسائیوں اور ہندوؤں کی طرف سے کیا جاتا ہے لیکن خود ان کی الہامی کتابیں اس کی زد میں آتی ہیں۔ بائیبل میں کئی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں۔ چاروں اناجیل میں تکرار موجود ہے۔ وہی بات جو متی کہتا ہے مرقس لوقا اور یوحنا بھی اس کو دہراتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں کی کتابوں میں تکرار پایا جاتا ہے۔ مثلاً اتھروید جلد اول کتاب ۲ دعا ۲۷ اور رگ وید جلد اول کتاب اول دعا ۹۶ میں تکرار موجود ہے۔ اگر تکرار قابلِ اعتراض بات ہے تو ان پر بھی کیوں اعتراض نہیں کیا جاتا۔ قرآن کریم پر یہ اعتراض محض نا سمجھی اور نادانی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ میں اسے واضح کرنے کیلئے ایک آیت لے کر اس کا مطلب بیان کر دیتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ سورۃ الرحمٰن میں فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ ۳۹ کا بار بار تکرار ہے اور ایسے موقع پر بھی اسے لایا گیا ہے جہاں اس کا کوئی جوڑ نہیں معلوم ہوتا۔ بلکہ اُلٹ پڑتا ہے۔ جیسے كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ کے ساتھ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبْنِ آتا ہے ۔ پادری اکبر مسیح نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ کے یہ معنی ہیں کہ دنیا کا ہر آدمی فنا ہونے والا ہے اور يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ کے یہ معنی ہیں کہ صرف خدا ہی باقی رہنے والا ہے جو جلال اور إِكْرَام والا ہے۔ مگر آگے آتا ہے فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبْنِ تم خدا کی کون کونسی نعمت کا انکار کرو گے ۔ اب اس موقع پر کس نعمت کا ذکر تھا ؟ کہ یہ کہا گیا۔ کیا مرنا اور فنا ہونا بھی ایک نعمت ہے ؟ موت کا فلسفہ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ فنا بھی انسان کیلئے ایک انعام ہے۔ جہاں دیگر مذاہب نے فنا کو سزا قرار دیا ہے وہاں قرآن نے اسے انعام ٹھرایا ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ آتا ہے ۔ تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - نِ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيُوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ۔ اللہ یعنی سب برکتوں والا خدا ہی ہے جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور یہ ہر بات پر قادر ہے۔ وہ برکتوں والا خدا ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا۔ یہ اس لئے کہ انسانوں کے اعمال کا امتحان لے اور ان کے نیک نتائج پیدا کرے وہ غالب ہے اور غفور ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالی نے موت و حیات کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ