انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 124

انوار العلوم جلدا ۱۳ فضائل القرآن (۲) یہ اعتراض کہ قرآن میں غیر زبانوں کے الفاظ آ قرآن کریم میں غیر زبانوں کے الفاظ تحر۔ گئے ہیں یہ بھی درست نہیں۔ کوئی زبان خواہ وہ نئی ہو یا پرانی غیر زبانوں کے الفاظ سے پاک نہیں ہو سکتی۔ اعتراض تب ہو تا جب عربی زبان میں وہ الفاظ جاری نہ ہوتے اور عرب کہتے کہ ہم ان الفاظ کو سمجھ نہیں سکتے۔ جب عرب قرآن کے الفاظ کو سمجھ جاتے تھے اور مکہ والے سمجھ لیتے تھے عرب میں وہ الفاظ جاری تھے اور وہ الفاظ عربی زبان کا ایک حصہ ہو چکے تھے تو خواہ وہ غیر زبان کے ہی ہوں کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں اگر قرآن نے ہی وہ الفاظ عربی میں داخل کئے ہوں تب بھی یہ قرآن کی بہت بڑی طاقت کی علامت ہے کہ وہ الفاظ عربوں میں رائج ہو گئے۔ کیونکہ جو قادر الکلام نہ ہو اس کی بات چل نہیں سکتی۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ اگر کوئی قادر الکلام اپنے کلام میں غلطی بھی کرے تو اسے ایجاد کہیں گے غلطی نہیں کہیں گے ۔ کیونکہ وہ زبان پر عبور رکھتا ہے۔ پس اگر قرآن میں نئے الفاظ آئے اور وہ عربی زبان کا جزو بن گئے تو یہ قرآن کا اور زیادہ معجزہ ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ غیر زبانوں کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔ دراصل یہ دھو کا اس وجہ سے لگا ہے کہ عربی اور عبرانی زبان کے بعض الفاظ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ بلکہ بعض محاورات بھی آپس میں مل گئے ہیں۔ اس سے یہ غلط طور پر سمجھ لیا گیا کہ قرآن میں غیر زبانوں کے الفاظ آ گئے ہیں۔ مثلاً فُرْقَانِ ایک لفظ ہے۔ اس کے تمام مشتقات عربی میں موجود ہیں۔ اس کے متعلق یہ کہنا کہ قرآن نے یہ لفظ باہر سے لیا ہے غلط ہے۔ اس طرح رَحْمنُ کے متعلق اعتراض کرتے ہیں حالانکہ یہ بھی عربی لفظ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ محققین یو رپ کو یہ دھو کا قرآن کریم کی اس لفظ رحمن کی حقیقت آیت سے لگا ہے کہ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنُ - ۲۵ یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدائے رحمن کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ تو وہ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے۔ معترضین کہتے ہیں۔ یہ آیت اس بات کی سند ہے کہ غیر زبان کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔ کیونکہ عرب کے لوگ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے رحمٰن کیا ہوتا ہے۔ اگر یہ غیر زبان کا لفظ نہ ہوتا تو وہ کیوں ایسا کہتے حالانکہ معترضین اس آیت کے معنے ہی نہیں سمجھے ۔ کفار کا اعتراض لفظ رحمن پر نہیں تھا بلکہ اس اصطلاح پر تھا جو قرآن نے رحمن کے لفظ کے ذریعہ پیش کی تھی۔ قرآن نے یہ نئی اصطلاح پیش کی تھی