انوارالعلوم (جلد 11) — Page 114
انوار العلوم جلد ۱۱ فضائل القرآن (۲) ذریعہ نکلے۔ غرض ایک طرف تو قرآن نے ایسی روحانی باتیں بیان کیں جو دنیا پہلے نہ جانتی تھی اور دوسری طرف ایسے دنیوی علوم ظاہر ہوئے جن کے مقابلہ میں پہلے علوم ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں ٹھہر سکتے۔ یہ تین پیشگوئیاں قرآن کریم کے الہی کتاب ہونے کے ثبوت کے لئے کافی ہیں۔ مگر ان پیشگوئیوں کے علاوہ قرآن قرآن کریم کی افضلیت کی ایک اور شہادت کریم اپنی افضلیت کے لئے ایک چوتھی شہادت بھی پیش کرتا ہے ۔ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ 19 اس کتاب کے معارف اور حقائق صرف انہی لوگوں پر کھل سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کی طرف سے پاک کئے گئے ہوں۔ دیکھو قرآن اسی زبان میں آیا جسے لوگ جانتے تھے۔ اس کے الفاظ وہی تھے جو لوگ استعمال کرتے تھے۔ اور عربی جاننے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں مگر ان پر قرآن کے معارف نہیں کھلتے ۔ معارف اپنی پڑ کھلتے ہیں جو اس کے خدا کا کلام ہونے پر ایمان لاتے اور اپنے اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا کرتے ہیں۔ کیا کوئی انسان اپنی تصنیف کردہ کتاب کے متعلق یہ شرط عائد کر سکتا ہے کہ میں نے جو کتاب تصنیف کی ہے اس کے مطالب وہی سمجھے گا جو خدا تعالیٰ کا مقرب ہو گا۔ کوئی انسان اپنی تصنیف کے متعلق اس قسم کی شرط نہیں پیش کر سکتا۔ پس جو کتاب معروف زبان میں ہو مگر اس کے مطالب کا انکشاف دماغی قابلیتوں اور علوم ظاہری کی بجائے تعلق باللہ کے ساتھ وابستہ ہو۔ اس کے متعلق ماننا پڑے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے ورنہ اس کے علوم کا ظہور خالی علم و فکر پر کیوں نہ ہوتا۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ جس قدر الہامی کتب پائی جاتی ہیں ان کے مطالب ان زبانوں کے جاننے والوں پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کے متعلق یہ شرط ہے کہ خواہ ظاہری طور پر کوئی بڑا عالم نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق رکھتا ہو تو اس ا پر اس کے معارف کھل جائیں گے۔ چنانچہ جہاں تو رات انجیل دید اور ژوند او شتا کے علوم ظاہری عالموں کے ہاتھوں، میں ہیں وہاں قرآن کریم کے علوم صرف روحانی علماء اور اولیاء کے ہاتھ سے ہی کھلتے چلے آئے ہیں۔ جیسے سید عبد القادر صاحب جیلانی ، حضرت محی الدین صاحب ابن عربی ، مولانا روم، امام غزالی سید احمد صاحب سرہندی ، شهاب الدین صاحب سهروردی ، شاہ ولی اللہ صاحب یہی لوگ قرآن کریم کے علوم کو سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کے قابل ہوئے ہیں۔ بے شک 7