انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 106

انوار العلوم جلد !! ۱۰۶ فضائل القرآن (۲) ممکن ہے کوئی کہے کہ قرآن حضرت موسیٰ کی پیشگوئی کے مصداق ہو نی کادعویٰ کریم کب کہتا ہے کہ کہ میں وہی کتاب ہوں جس کا وعدہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔ سو اس کا جواب بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْ سَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً A یعنی اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے شَاهِدًا عَلَيْكُمْ جو تم پر شاہد اور گواہ ہے كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً اور وہ اسی قسم کا رسول ہے جس قسم کا رسول موسیٰ تھا جسے فرعون کی طرف بھیجا گیا۔ اس آیت میں رسول کریم میں کے متعلق استثنا باب ۱۸ آیت ۱۸ کے مصداق ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور طرح بھی اس بات کا ثبوت ملتا ہے۔ اور وہ یہ کہ استثنا باب ۱۸ کی آیت ۱۸ حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہوتی بلکہ وہ خود بھی کہتے ہیں کہ میں اس کا مصدا اس کا مصداق نہیں۔ انجیل میں آتا ہے ، حضرت مسیح کہتے ہیں۔ " مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہتی ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔ پس انجیل سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب میں جس آنے والے کی پیشگوئی ہے وہ حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہوتی بلکہ اس کا مصداق کوئی اور ہے۔ پھر حضرت مسیح صرف بنی اسرائیل کے لئے آئے تھے۔ مگر وہ جس کی نسبت حضرت موسی نے پیشگوئی کی وہ ساری دنیا کے لئے ہے۔ اور یہ دعوی قرآن ہی پیش کرتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ملہ یعنی اے لوگو! آج میں نے دین کے کامل کرنے کی کڑی کو پورا کر دیا ۔ وہ کڑی جو آدم سے لے کر اب تک نامکمل چلی آتی تھی آج قرآن کے ذریعہ پوری کر دی گئی ہے اور میں نے اپنے احسان کو تم پر کامل کر دیا ہے۔ گویا مختلف چکروں میں سے انسانوں کو گزارتے ہوئے میں انہیں اس مقام پر لے آیا کہ بندہ خدا کا مظہر بن گیا اور میں نے تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کر لیا۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم اپنے بعد کسی اور شریعت اور نئی کتاب کی امید