انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 99

انوار العلوم جلد۔ ۹۹ فضائل القرآن (۲) سعتِ نفع کے لحاظ سے فضیلت پچھلے بھی وسعت نفع کے لحاظ سے بھی فضیلت دی جاتی ہے۔ مثلاً ایک دوائی کے متعلق یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنی بیماریوں : بیماریوں میں نفع دیتی ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتنی طبائع پر اثر ڈالتی۔ اثر ڈالتی ہے اور کتنے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ قرآن کریم اس لحاظ سے بھی مجھے افضل نظر آیا ۔ سے کہ کتنے عرصہ میعاد نفع کے لحاظ سے فضیلت علم کوئی یہ نفع پہنچتی ہے ہم بعض دفعہ ایک چیز کو چیز دوسری چیز پر فضیلت دے دیتے ہیں۔ جب ایک قسم کے دو کپڑے دو کپڑے سامنے ہوں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک کپڑا کتنی ۔ مدت تک چلتا ہے اور دوسرا کتنی مدت تک۔ ایک اگر اگر ایک سال چلنے والا ہو اور دوسرا چھ ماہ تو ایک سال چلنے والے کو دوسرے پر فضیلت دے دی جائے گی۔ قرآن کریم کی اس لحاظ سے بھی مجھے فضیلت نظر آئی۔ نفع اٹھانے والوں کے مقام کے لحاظ سے فضیلت آٹھویں۔ پھر فضیلت کی ایک وجہ ان لوگوں کی عظمت کے لحاظ سے بھی ہوتی ہے جن کو وہ نفع پہنچاتی ہے۔ یعنی دیکھا جاتا ہے کہ کس پایہ کے لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ جن چیزوں کے متعلق یہ معلوم ہو کہ بڑے پایہ کے انسانوں کو نفع پہنچاتی ہیں ان کو دوسری چیزوں پر مقدم کر لیا جاتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ قرآن کریم اس لحاظ سے بھی افضل ہے۔ نفع اٹھانے وا یرد۔ ہے والوں کی اقسام کے لحاظ سے فضیلت اقای کی یوں ہوا کوئی کی تھی چیز نفع پہنچاتی ہے کیونکہ علاوہ افراد کے، اقسام بھی ایک درجہ رکھتی ہیں۔ ایک چیز ایسی ہے جو ایک کروڑ انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے اور ایک اور ہے کہ وہ بھی ایک کروڑ انسانوں کو ہی نفع پہنچاتی ہے لیکن ان میں فرق یہ ہو کہ ایک صرف ایک قسم کے لوگوں کو نفع پہنچائے۔ مثلاً عیسائیوں یا ہندوؤں کو مگر دوسری ایک کروڑ انسانوں کو ہی نفع پہنچائے۔ لیکن عیسائیوں ، ہندوؤں، یہودیوں اور مسلمانوں سب کو نفع پہنچائے پہنچائے تو اسے افضل قرار دیا جائے جائے گا۔ غرض وسعتِ اقسام افراد کے لحاظ سے بھی ایک چیز افضل قرار دی جاتی ہے اس میں بھی مجھے قرآن کریم کی دوسری کتب پر فضیلت نظر آئی۔