انوارالعلوم (جلد 11) — Page 96
انوار العلوم جلد 11 ۹۶ فضائل القرآن (۲) آئندہ کے لئے بھی سب الہامی کتابوں کا دروازہ بند کرتی ہوں اس کے لئے ضروری ہے کہ کا ہوں، اس بات کے قطعی ثبوت پیش کرے کہ آئندہ بھی کوئی ایسی کتاب نازل نہیں ہو سکتی۔ پس قرآن کریم کی افضلیت ثابت کرنے کیلئے یہ معیار نہایت ضروری ہے۔ ہاں علاوہ اس اصولی بحث کے تفصیلی بحث بھی کی جاسکتی ہے کہ فلاں فلاں خوبی قرآن کریم میں ہے جو اور کسی کتاب میں نہیں ہے مگر اصولی طور پر بحث کرنا بھی ضروری ہو گا۔ جب ہم قرآن کریم میں خوبیوں کی کثرت ثابت کر دیں مثلا یہ کہیں کہ فلاں فلاں خوبیاں دید بائیبل اور زند او شتا میں بھی پائی جاتی ہیں اور قرآن میں بھی ہیں مگر یہ چار یا دس میں خوبیاں ایسی ہیں جو صرف قرآن میں پائی جاتی ہیں تو اس سے بھی قرآن کریم کی فضیلت ثابت ہوگی۔ مگر اس سے قرآن کریم کا اکمل ہونا ثابت نہ ہو گا اور یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچے گی کہ آئندہ کوئی اور شرعی کتاب نہیں آسکتی۔ اس طرح قرآن کریم صرف موجودہ کتب کے مقابلہ میں افضل ثابت ہو سکتا۔ غرض سب کے آخر اور سب سے ا افضل ہونے کا تمام وجوہ کمال میں افضل کتاب دعوی کرنے والی کتاب نے والی کتاب کیلئے نہ صرف یہ ضروری ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس کے اندر وہ کچھ ہے جو دو سری کتب میں نہیں ہے بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ یہ بھی ثابت کرے کہ جو کچھ اس میں ہے وہ دوسری کتب میں ہو ہی نہیں سکتا۔ جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے اس وقت تک صرف اچھی باتیں بتانے سے اس کی افضلیت ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہاں افضلیت چونکہ صرف اعلیٰ خوبیوں کے لحاظ سے نہیں ہوتی بلکہ وسیع خوبیوں کے لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔ اس لئے خوبیوں کی وسعت اس غرض کے اثبات کیلئے پیش کی جاسکتی ہے کہ گو بعض خوبیاں کسی اور کتاب میں بھی پائی جاتی ہوں مگر خوبیوں کی وسعت کے لحاظ سے فلاں کتاب افضل ہے۔ ہاں کامل افضل کتاب وہ کہلائے گی جو تمام وجوہ کمال میں افضل ثابت ہو۔ اور میرا قرآن کریم کے متعلق یہی دعویٰ ہے۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ کیا پہلے لوگوں کو قرآن کریم کے ان فضائل کا علم جواہرات کی کان نہ تھا؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ علم تھا مگر رده تھا مگر روحانی علوم خدا تعالٰی کے فضل سے روزانہ ترقی کرتے ہیں۔ اور جب ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہمارے پاس قرآن کریم جواہرات کی ایک کان ہے : کان ہے جس میں ہے۔ سے نئے سے نئے جواہر نکلتے رہتے ہیں تو پھر کیوں ہم انہی جو اہرات پر YYYYY