انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 86

انوار العلوم جلدا ۸۶ چند اہم اور ضروری امور دیکھا ہے ہمارے مولویوں کو مخالفت برداشت کرنے اور گالیاں سننے کی عادت نہیں رہی۔ کیونکہ وہ ایسے ہی علاقوں میں جاتے ہیں جہاں احمدی ہیں مگر وہاں جلد ترقی نہیں ہو سکتی۔ جہاں نئی جماعتیں قائم ہوتی ہیں وہاں جلد احمدیت پھیل جاتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں دوست جلد ایسے حلقوں کے متعلق مجھے اطلاع دیں گے۔ یہ بھی ارادہ ہے کہ آنے والے سال میں اگر خدا تعالی توفیق دے تو ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں کا ٹور کروں۔ برہما کے دوستوں کا خیال ہے کہ میرے جانے سے اچھی تبلیغ ہو سکتی ہے۔ بنگال کے دوستوں کی بھی مدت سے خواہش ہے کہ میں وہاں جاؤں۔ اگر یہ سفر تجویز ہو تو راستے کے بڑے بڑے شہروں میں بھی ٹھہر سکتے ہیں اور اگر یہ سفر کامیاب ہو تو اور علاقوں میں بھی جا سکتے ہیں۔ بھیرہ جانے کا ارادہ مدت سے ہے کیونکہ وہ حضرت خلیفہ اول کا وطن ہے۔ عام مسلمانوں کی حالت روز بروز افسوسناک ہو رہی ہے۔ اسلام کی ہتک ہو رہی ہے مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ ان میں مذہب کے متعلق کچھ بھی احساس نہیں ہے جو اسی طرح پیدا کیا جا سکتا ہے کہ تبلیغ احمدیت پر زور دیا جائے۔ اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض مقامات کے متعلق شکایت آئی ہے کہ رسول کریم میں ایم کی سیرت کے متعلق جلسوں کے انعقاد میں چونکہ غیر احمدیوں سے کام لینا پڑا اس لئے بعض لوگوں میں مداہنت پیدا ہو گئی ہے۔ میں کسی کا نام نہیں لیتا مگر ایسے لوگ خود اپنے نفسوں میں غور کر لیں ۔ اگر اصل چیز ہی مٹ جائے تو پھر ایسے جلسوں اور ان میں تقریروں کا کیا فائدہ ۔ ایسے جلسوں کے لئے مسلمانوں کے پاس جاؤ اور انہیں کہو آؤ یہ ہمارا متحدہ کام ہے تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ۔ اگر وہ شامل ہوں تو بہتر ورنہ ان کی منتیں اور خوشامدیں نہ کرو۔ اگر وہ رسول کریم میں کی تعریف اور شان کے اظہار کے جلسوں میں شامل ہونگے تو برکات حاصل کریں گے اور اس کا فائدہ انہیں خود پہنچے گا۔ ہمارا ان کے شامل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن یاد رکھو! ان کی بے جا رضا مندی کے لئے اپنا دین تباہ نہ کرو۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہاری ہدایت میں کسی کے گمراہ ہونے کی وجہ سے فرق آتا ہے تو گمراہ ہونے والے کی پرواہ نہ کرو۔ تم میں اگر کسی جگہ کوئی اکیلا ہی ہو اور اس کے ساتھ کوئی شامل نہ ہو تو وہ جنگل کے درختوں کے سامنے جا کر محمد میں تعلیم کی تعریف کرنا شروع کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اپنی ذمہ داری سے بری سمجھا جائے گا اور اس کا نتیجہ بھی نکلے گا۔ لیکن کسی صورت اور کسی