انوارالعلوم (جلد 11) — Page 78
انوار العلوم جلدا چند اہم اور ضروری امور سوائے حضرت علی یا ایک دو اور کے۔ مگر حضرت عائشہ لال عن دھڑے سے فرماتی ہیں۔ قُولُوا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ بَعْدَة کے یہ تو کہو کہ رسول کریم میں خاتم النبین ہیں مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اب دیکھ لو اس زمانہ کے مأمور نے کس کی تصدیق کی۔ ان کی جنہیں ناقصات العقل کہا جاتا ہے یا ان کی جو کامِل العقل کہلاتے تھے۔ اگر اس وقت وہ یہ کہتیں کہ میں جسے ناقصات العقل میں شامل کیا جاتا ہے کیوں بولوں تو ں ہے آج اس بارے میں کس قدر مشکلات پیش آئیں اور ہم کتنے میدانوں میں شکست کھاتے۔ جب ہم خاتم النبین ن کے یہ معنی پیش کرتے کہ رسول کریم مسلم کے بعد آپ آ۔ کی امت میں آپ کی غلامی میں نبی آسکتا ہے تو کہا جاتا پہلے کسی نے یہ معنی کیوں نہ سمجھے ۔ اب جب یہ کہا جاتا ہے تو ہم کہتے ہیں دیکھو رسول کریم میں اسلام کی بیوی نے یہی معنی سمجھے تھے۔ دراصل نَاقِصَاتُ الْعَقْلِ وَالدِّینِ نسبتی امر ہے کہ مرد کے مقابلہ میں عورت کم عقل رکھتی ہے۔ یعنی کامل سے کامل مرد سے کامل سے کامل عورت عقل میں کم ہوگی اور دوسرے درجہ کے مرد سے دوسرے درجہ کی عورت کم ہوگی اور اس سے کوئی انکار نہیں کرتا۔ بعض باتیں مردوں سے تعلق رکھنے والی ایسی ہیں جن میں عورتوں کو پیچھے رہنا پڑتا ہے جیسے لڑائیاں اور جنگیں ہیں۔ پر نَاقِصَاتُ الْعَقْلِ نسبتی امر ہے۔ اور اس سے عورتوں کا حق نمائندگی نہیں مارا جا سکتا کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو سب کے سب اول درجہ کی عقل رکھنے والے مردوں کو حق نمائندگی ملنا چاہئے دوسروں کا حق نہیں ہونا چاہئے مگر مجلس مشاورت میں جو نمائندے آتے ہیں ان میں گو اعلیٰ درجہ کی عقل رکھنے والے بھی ہوتے ہیں مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں جانتے۔ ان سے بڑھ کر بیسیوں مرد دوسرے مقامات پر موجود ہوتے ہیں اور مرد ہی نہیں بیسیوں عورتیں بڑھ کر ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک ایسا شخص جو کسی گاؤں سے آتا ہے اور مجلس مشاورت کا نمائندہ ہوتا ہے اس سے زیادہ واقفیت رکھنے ، الے بہت سے ہماری جماعت کے مرد لاہور میں ہوتے ہیں مگر انہیں نمائندگی کا حق نہیں دیا جاتا۔ عرض عورتوں کو نمائندگی دینا ان کا حق ہے مگر مگر دیکھنا د یہ ہے کہ کس طرح انہیں یہ حق دیں ۔ میں سمجھتا ہوں الفضل ال کے مضامین پڑھ کر بعض لوگوں کو تو یہ خیال پیدا ہو گیا ہو گا کہ جہاد کا موقع آگیا ہے مرا نہیں یاد رکھنا چاہئے عورتوں کا یہ حق ہے۔ ہاں سوال یہ ہے کہ کس طریق سے ان سے مشورہ لیا جائے تاکہ ان کا حق بھی زائل نہ ہو اور ان کے مشورہ سے ہم فائدہ بھی اٹھائیں۔