انوارالعلوم (جلد 10) — Page 51
انوار العلوم جلد 10 ۵۱ مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت جاتا۔ پھر اس سوراج کے لئے ہندو اس قدر شور ہی کیوں کرتے۔ پس جس چیز کی آج سے ایک ماہ پہلے تمام مسلمانان ہند مخالفت کر رہے تھے اسے صرف اسی وجہ سے کہ کمیشن میں ہندوستانی ممبر کیوں نہیں ہیں کیونکر قبول کیا جا سکتا ہے۔ کیا ہندوستانی ممبروں کا شامل ہونا اس قدر اہم سوال ہے کہ اس کے لئے مسلمانوں کو ابد الآباد تک کے لئے غلام بنا دینا جائز اور درست ہو سکتا ہے۔ جو لوگ اس فعل کو بڑا بھی سمجھتے ہیں انہیں بھی یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ ہندوستانیوں کا ممبر نہ ہونا ایک ادنی سوال ہے اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت ایک اہم تر سوال ہے۔ اور اونی چیز پر اعلیٰ کو قربان کر دینا انتہائی درجہ کی نادانی ہے۔ مندرجہ بالا حالات میں مسلمانوں کا اہم فرض ہے کہ تمام خیالات کو ترک کر کے وہ اس موقع کے لئے تیار ہو جائیں اور اپنے حقوق کو بالوضاحت کمیشن کے سامنے پیش کریں۔ میرے نزدیک یہ مسائل ہیں جن کے متعلق مسلمانوں کو تیار ہو جانا چاہئے۔ اول قلیل التعداد جماعت کے حقوق کی حفاظت:۔ اس کے متعلق پورے طور پر اپنے مطالبات اور دلائل کا ذخیرہ جمع کر لینا چاہئے۔ یورپ میں چونکہ پارٹیوں کی طاقت بدلتی رہتی ہے اس لئے انگریزوں کے نزدیک قلیل التعداد کی حفاظت کا سوال چنداں اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ جو آج کم ہیں کیوں وہ زیادہ ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔ حالانکہ وہاں پارٹیوں کی بنیاد سیاسی خیالات پر ہے جو بدلتے رہتے ہیں اور یہاں مذہب پر جو بہت کم بدلتا ہے اور اس وجہ سے جو کثیر التعداد ہیں وہ بظاہر حالات ہمیشہ کثیر التعداد رہیں گے جب تک تبلیغ سے ان کو اپنا ہم مذہب نہ بنالیا جائے اور قلیل التعداد جماعت ہمیشہ گھاٹے میں رہے گی۔ پس انگلستان اور ہندوستان کے فرق کو سمجھا کر کمیشن کے پرانے تعصب کو جسے ہندو بیانات نے اور بھی بڑھا دیا ہے دور کرنا ہے۔ دوسرے ادنی اقوام کے حقوق کا سوال :۔ گو یہ سوال اسلامی نہیں لیکن مسلمانوں کو ادنیٰ اقوام کی مدد کرنی چاہئے کیونکہ اس وقت تک ہندوؤں کو مسلمانوں پر غلبہ ادنی اقوام کی وجہ سے ہے۔ ہندو لوگ چوہڑوں وغیرہ کو حق تو کوئی نہیں دیتے لیکن انہیں ہندو قرار دے کر ان کے بدلہ میں خود سیاسی حقوق لے لیتے ہیں۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ انہیں ابھاریں ان کی تنظیم میں مدد دیں اور کمیشن کے سامنے ان کے معاملہ کو پیش کرنے میں اعانت کریں۔ تیسرے جدا گانہ انتخاب:۔ یہ مستقل طور پر کوئی حق نہیں لیکن ہندوستان کے مخصوص حالات میں اس کی سخت ضرورت ہے اور اس کے بغیر کبھی بھی مسلمان ترقی نہیں کر سکیں گے۔ پس