انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 44

انوار العلوم جلد 10 مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت یہ تو جو کچھ ہوا وہ ہو چکا خواہ وہ افسوسناک تھا یا عبرت ناک۔ اب سوال یہ ہے کہ آئندہ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ اس کمیشن کے فیصلہ پر بہت کچھ مسلمانوں کے حقوق کا انحصار ہے اور اس وقت غفلت برتنا سخت ملک کیونکہ (۱) ہندو لیڈر ہر سال ولایت جا کر انگریزوں کے کان بھرتے رہے ہیں کہ ہندوستان کے سب فسادات جداگانہ انتخاب کے نتیجہ میں ہیں اس لئے آئندہ مسلمانوں کو اپنے نمائندے الگ منتخب کرنے کا اختیار نہ ہو۔ چونکہ انگریز قوم خود اپنی قومی روایات کے لحاظ سے جدا گانہ انتخاب کے مخالف ہے اس لئے ان کی اس بات کا انگریزوں پر بہت اثر ہے اس لئے گو کمیشن جدا گانہ انتخاب کے اصل کو نہ مٹائے یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس کو ایسا کمزور کر دے کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ خود بخود مٹ جائے۔ (۲) بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے لیکن ان کو حق اپنی آبادی کی نسبت سے کم ملا ہوا ہے۔ اگر یہ بے انصافی اس کمیشن کے وقت میں بھی دور نہ کی گئی تو آئندہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت سمجھ لی جائے گی اور اس کا دور کرنا سخت مشکل ہو جائے گا۔ (۳) صوبہ سرحدی کو اگر آئینی حکومت نہ دی گئی تو اس کا اثر بھی ہندوستان کے مسلمانوں پر بہت بڑا پڑے گا۔ در حقیقت یہ ایک صوبہ کا سوال نہیں بلکہ گل ہندوستان کے مسلمانوں کا سوال ہے کیونکہ اس وقت تک دونوں آئینی صوبے جن میں مسلمان زیادہ ہیں (یعنی پنجاب و بنگال ) ان میں مسلمانوں کی زیادتی اس قدر کم ہے کہ وہ ہندوؤں کو ان دوسرے صوبوں کی زیادتی کے بدلہ میں کچھ نہیں دے سکتے جہاں مسلمان کم ہیں لیکن ان کو زیادہ حقوق دیئے گئے ہیں۔ ہاں سرحدی صوبہ میں وہ ان کو کافی بدلہ دے سکتے ہیں اور اس طرح پنجاب اور بنگال جو دوسرے صوبوں کے بدلہ میں گویا رہن ہوئے ہوئے ہیں آزاد ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ بھی بہت سے اہم سیاسی فوائد ہیں جن کا ذکر کرنے کی نہ گنجائش ہے اور نہ ان کا ذکر ایسی تحریرات میں مناسب ہے۔ (۴) صوبہ جات کی اندرونی آزادی میں اگر کوئی خلل واقع ہو تو مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ ان کی حفاظت کا اس سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں کہ جس قدر ممکن ہو سکے صوبہ جات مرکزی حکومت سے اندرونی انتظامات میں آزاد ہوتے جائیں۔ (۵) سندھ جس میں نوے فی صدی مسلمان ہیں اگر اسے اس وقت آزادی حاصل نہ ہوئی اور بمبئی سے علیحدہ کر کے اسے الگ صوبہ نہ بنا دیا گیا تو یہ بھی مسلمانوں کے لئے عموماً اور پنجاب کے لئے خصوصاً نقصان کا موجب ہو گا۔ اس صوبہ کی علیحدگی پنجاب کے مسلمانوں کی اقتصادی آزادی میں بہت کچھ مدد دے سکتی ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی ضمنی سوال ہیں جن کا اثر گہرے طور پر مسلمانوں کے مستقبل پر پڑ سکتا ہے۔