انوارالعلوم (جلد 10) — Page 42
انوار العلوم جلد 10 مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت بہت طاقت مسلمانوں کو حاصل ہے وہ بھی جاتی رہے گی جس سے مسلمانوں کے حقوق کو سخت نقصان پہنچے گا۔ دوسری تدبیر ہندوؤں نے یہ کی کہ جب انہوں نے دیکھا کہ اب ملک کو حکومت خود اختیاری ملنے والی ہے گو آہستہ ہی ملے اور چونکہ کسی قوم کو حکومت کے اختیارات اس تعداد کے مطابق ملیں گے جو اس کی ملک میں ہو اس لئے انہوں نے اپنی تعداد بڑھانے کے لئے شدھی کا طریق جاری کیا۔ حالانکہ اس سے پہلے آریوں پر ہندوؤں کی طرف سے اس بناء پر ادھرمی یا کفر کے فتوے لگائے جاتے تھے کہ وہ غیر قوموں کو اپنے اندر ملانا جائز سمجھتے ہیں۔ اسلام ہمیشہ سے تبلیغی مذہب ہے اور وہ شروع سے تبلیغ کرتا چلا آیا ہے لیکن ہندوؤں میں کم سے کم پچھلے ہزار سال میں تبلیغ کا نام و نشان نہ تھا اور یہ شدھی کی تحریک صرف اس وجہ سے جاری کی گئی ہے کہ تا ان کی تعداد اور بھی زیادہ ہو جائے اور وہ ہندوستان کے واحد مالک بن کر حکومت کریں۔ اور یہ قدرتی بات ہے کہ جب اس نیت سے تبلیغ کی جائے گی تو کوشش یہی ہوگی کہ دل مانیں نہ مانیں جس طرح ہو لالچ سے ، دباؤ سے، تدبیر سے، ترغیب سے دوسروں کو اپنے اندر ملا لیا جائے تاکہ جلدی سے کام ہو جائے چنانچہ ایسی ہی تدابیر کو اختیار کیا گیا اور ملکانا میں ہی کیا گیا۔ رؤسا کے دباؤ سے، بیٹیوں کے اثر سے، قرضوں کے لالچ سے، اسلامی مظالم کی جھوٹی داستانوں سے، سوامی شردھانند جی کی جامعہ مسجد دہلی والی تقریر کی تصویر دکھا دکھا کر ہندو مذہب اختیار کرنے کا نام قومی ملاپ رکھ رکھ کر ملکانوں کو شدھ کیا گیا اور سمجھا گیا کہ اس رو کو سب ہندوستان میں جاری کر کے لاکھوں مسلمانوں کو ہندو کر لیا جائے گا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے اس وقت یہ توفیق ملی کہ ایک سو کے قریب مبلغ میں نے وہاں بھیج دیا جنہوں نے ہر قسم کی تکلیف اُٹھا کر اور ماریں کھا کر آریہ مبلغوں کا مقابلہ کیا۔ کئی گاؤں واپس مسلمان کئے اور باقی علاقہ کو محفوظ کر لیا۔ چنانچہ اب تک ہمارے مبلغ وہاں کام کر رہے ہیں اور سوامی شردھانند جی کا وہ ادعاء کہ گیارہ لاکھ ملکانے چڑیا کے بچے کی طرح چونچ کھولے ہماری طرف (یعنی ہندوؤں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ ہم ان کی خبر گیری کریں اب تک ایک خیالی خواب کی طرح اپنی تعبیر کا محتاج ہے۔ ہندوؤں نے لاکھ ان چونچوں میں دانے ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ ایسی بند ہیں کہ اتے کتے کو چھوڑ کر باقی سب دانے لینے سے بھی انکاری ہیں اور کئی تو دانے دانے کھا کھا کر پھر اسلامی خشک روٹی کی طرف واپس آجاتی ہیں کہ اس کی لذت کے مقابلہ میں ہندوؤں کے دانے بھی انہیں بے مزہ معلوم دیتے ہیں۔