انوارالعلوم (جلد 10) — Page 40
انوار العلوم جلد 10 مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت ہے۔ تعلیم یافتہ اصحاب تو اس کمیشن سے بخوبی واقف ہیں لیکن چونکہ میرا یہ مضمون ان جگہوں پر بھی انشاء اللہ پہنچے گا جہاں اخبارات نہیں پہنچتے اور ان لوگوں تک بھی پہنچے گا جو عام طور پر دنیا کی خبروں سے بے خبر ہوتے ہیں اس لئے میں اختصاراً یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ۱۹۱۷ء میں انگریزی حکومت کے وہ وزیر جو ہندوستان کے معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں ہندوستان میں اس لئے آئے تھے کہ وائسرائے صاحب بہادر سے مل کر اس امر پر غور کریں کہ ہندوستانیوں کو ان کے ملک میں کہاں تک اختیارات حکومت دیئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے ایک رپورٹ تیار کی جو کئی مرحلوں کے بعد پارلیمنٹ سے ایک قانون کی صورت میں پاس ہو کر ہندوستان میں نافذ کی گئی۔ اس قانون کا ما حصل یہ تھا کہ ہندوستانی بھی اور اقوام عالم کی طرح اس امر کے حقدار ہیں کہ ان کے ملک میں انہیں حکومت کا اختیار ہو لیکن چونکہ وہ مختلف اقوام اور مذاہب میں منقسم ہیں اور تعلیم میں: میں بہت پیچھے ہیں اس لئے فوراً انہیں پورے اختیارات نہیں دیئے جاسکتے۔ پس اس امر کو تو تسلیم کیا جاتا ہے کہ ایک نہ ایک دن ہندوستان کو حکومت خود اختیاری دی جائے گی لیکن سردست اس کا اجراء نہیں کیا جاسکتا۔ سردست صرف یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کچھ اختیار انہیں دیئے جائیں اور ان کے برتنے کے لئے دو کونسلیں ہندوستان کی مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں اور ہر صوبہ کے گورنر کے ساتھ بھی ایک ایک کونسل ہو جس کے ممبروں میں سے دو یا دو سے زیادہ وزیر بنائے جائیں جن کے سپرد بعض صیغے حکومت کے کر دیئے جائیں تاکہ اس طریق سے ہندوستانی کام کرنا سیکھ جائیں۔ بعض صیغے تو ان کو نسلوں کے قریباً اختیار میں دے دیئے گئے اور بعض صیغوں پر اعتراض کرنے کا اور ان کام پر بحث کرنے کا انہیں حق دیا گیا۔ اسی و اسی وقت یہ خطرناک غلطی مسلم لیگ اور کانگریس کے ایک سمجھوتے کی بناء پر کی گئی کہ بنگال اور پنجاب جہاں مسلمانوں کی آبادی دوسری قوموں کی نسبت زیادہ ہے وہاں کے لئے ایسے قانون بنائے گئے کہ عملاً کثرت ہندوؤں کی یا ہندوؤں اور سکھوں کی ہو گئی۔ صوبہ سرحد کو فوجی ضروریات کا خیال کر کے ان حقوق سے محروم رکھا گیا اور اس میں بھی مسلمانوں کو نقصان رہا۔ اس وقت یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہر دس سال کے عرصہ میں ایک کمیشن اس غرض سے ہندوستان بھیجا جایا کرے کہ وہ غور کر کے رپورٹ کرے کہ کیا ہندوستان اب مزید حقوق کے حاصل کرنے کے قابل ہو گیا ہے یا نہیں۔ یا یہ کہ جو حقوق اسے پہلے دیئے جاچکے ہیں وہ ان کو بھی صحیح طور پر استعمال کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو کیا وہ اس سے چھین لئے جائیں یا نہیں۔ سائمن کمیشن اسی فیصلہ کی بناء پر بھیجا گیا ہے اور اس کا نام سائمن کمیشن اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس کے کام