انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 618

انوار العلوم جلد ۱۰ ㄑㄧ پنجاب سائمن کمیٹی کی رپورٹ پر تبصرہ بالکل ممکن ہے کہ اگر وہ شخص جس سے ہمیں اختلاف ہے، حد سے تجاوز نہیں کر جاتا تو اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو جائے اور ہماری خرابی کا موجب نہ بنے بلکہ ہمارا دست و بازو بن کر ہماری تقویت کا باعث ہو۔ ایک شبہ کا ازالہ میں اس مضمون کے ختم کرنے۔ نے سے پہلے اس شبہ کا ازالہ کر دینا چاہتا ہوں کہ جب میری اور جماعت کی رائے زیر بحث مسئلہ میں مسلمانوں کی کثرتِ رائے کے مطابق تھی تو کیوں چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے اس کے خلاف رائے دی۔ سو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ چودھری صاحب کو نہ میں نے کوئی ہدایت دی اور نہ دینی مناسب تھی۔ کیونکہ ۔ کیونکہ وہ میری طرف سے یا جماعت کی طرف سے نمائندہ ہو کر ہو کر کمیٹی میں نہ مجھ گئے تھے۔ ہر ایک احمدی اگر اسے بچے طور پر مجھ سے اختلاف ہو ، ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے سے اختلاف رکھ سکتا ہے۔ ہاں اگر اختلاف ایسا ہو تا کہ جس پر عمل کرنا یا جس کا ظاہر کرنا تفرقہ ، تشتت یا تباہی کا موجب ہوتا تو میرا حق تھا کہ میں قبل از وقت معلوم ہونے پر اس کے اظہار انہیں روک دیتا اور اگر وہ اخلاقاً اپنی موجودہ پوزیشن مین اس کے اظہار سے باز نہ رہ سکتے تو ان کا فرض ہو تا کہ وہ اس عہدہ سے استعفاء دے دیتے اور میں کامل یقین رکھتا ہوں کہ اگر ایسا موقع ہوتا تو چودھری صاحب ایسا ہی کرتے ۔ مگر چونکہ یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوا، اس لئے ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ← خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ (الفضل ۳۰۔ اگست ۱۹۲۹ء)