انوارالعلوم (جلد 10) — Page 21
انوار العلوم جلد 10 ۲۱ مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں ایسے جلسوں میں جانے کی نہیں لیکن میں نے دعوت کو رد کرنا پسند نہیں کیا۔ ایک شخص نے میرے کوٹ پر اعتراض کر دیا کہ ایسے اچھے کپڑے کا کوٹ ایک مذہبی جماعت کا امام ہو کر کیوں پہن رکھا ہے حالانکہ اس سے اسلام نے منع نہ کیا تھا۔ غرض صفائی کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس سے باطن پر اثر پڑتا ہے اور کام کرنے کے لئے اُمنگ پیدا ہوتی ہے۔ اپنی اولاد کو صفائی پسند بناؤ مگر ان میں زیب و زینت کی زنانہ روح پیدا نہ ہونے دو۔ دسویں چیز وقت کی پابندی ہے۔ بچوں کے ہر کام کا ایک نقشہ اور (۱۰) پابندی وقت وقت درج ہوتا کہ وہ مشین کی طرح کام کرنے کرنے لگیں۔ اور ا۔ اور اپنے اندر بھی یہی بات پیدا کرو۔ میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اولاد کی تربیت ناراضگی سے نہیں بلکہ نگرانی سے ہوتی ہے۔ (1) کوئی بیکار نہ رہے گیارہویں چیز جس کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کوئی آدی اور نکما نہ ہو۔ قوم کا ایک فرد بھی اگر نکلتا ہو۔ تو یہ مصیبت ہے۔ اور جہاں قریباً سب ہی بیکار ہوں اس مصیبت کا اندازہ کون کرے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اگری ( ایک قسم کی گھاس) کی جھوٹی لئے جا رہا ہے۔ آپ نے اسے چھین لیا اور کہا جاؤ جا کر کام کرو۔ مگر آج جو حالت ہے وہ تم سے پوشیدہ نہیں۔ قوموں میں تمدنی اور اقتصادی جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ اگر نکتے ہوں تو وہ اس مقابلہ میں کیا کریں گے۔ اس ملک میں ہندو، سکھ اور اچھوت ۲۴ کروڑ ہیں۔ مسلمان کے کروڑ۔ اگر سکتے ہوں تو اس سے بڑی مصیبت کیا ہو سکتی ہے۔ یہ چیزیں ہیں جو اخلاق کی مضبوطی کے لئے ضروری ہیں۔ جب تک کسی شخص اور قوم میں یہ نہ پائی جاویں اخلاقی مضبوطی اس میں پیدا نہیں ہو سکتی۔ اب پھر میں انفرادی ذمہ داریوں کے سلسلہ کی طرف آتا ہوں۔ چوتھی انفرادی ذمہ داری چو تھی انفرادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہر کام کے لئے آدمی ہو۔ یہی نہیں کہ ہر شخص کام کرے بلکہ ہر کام کے اہل موجود ہوں۔ نیوی گیشن کے لئے ملاح بھی ہوں کمانڈر بھی ہوں ڈاکٹر بھی ہوں انجینئر بھی ہوں۔ کوئی شعبہ انسانی زندگی اور اس کی ضروریات کا نہ ہو جس کے لئے قابل اور ماہر آدمی ہمارے پاس