انوارالعلوم (جلد 10) — Page 589
انوار العلوم جلد ) ۵۸۹ کامیابی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کامیابی کامیابی ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنوں سے عام طور پر ہمارے اہل ملک ناواقف ہیں اور یہی ہماری ناکامیوں کی وجہ ہے ہمارے ملک میں کامیابی نام ہے روپیہ کا۔ کامیابی نام ہے اچھے کپڑے پہننے کا اور اچھے کھانے کھانے کا۔ کامیابی نام ہے لوگوں پر تسلط پائے اور حکومت کرنے کا۔ مگر حق یہ ہے کہ اس سے زیادہ غلط مفہوم کامیابی کا نہیں ہو سکتا۔ جن چیزوں کو ہم کامیابی قرار دیتے ہیں انہی کو اپنا کام یعنی مقصد بنالینا کامیابی کے راستہ میں روک ہوا کرتا ہے۔ یہ چیزیں خود کامیابی نہیں بلک بعض دفعہ کامیابی کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے بعض لوگ پوچھ بیٹھا کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین کیوں ناکام ہوئے اور یزید کیوں کامیاب حالانکہ اگر غور کرتے تو یزید با وجود مال و دولت اور جاہ و حشم کے ناکام رہا اور حضرت امام حسین " باوجود شہادت کے کامیاب رہے۔ کیونکہ ان کا مقصد حکومت نہیں بلکہ حقوق العباد کی حفاظت تھا۔ تیرہ سو سال گزر چکے ہیں مگر وہ اصول جس کی تائید میں حضرت امام حسین کھڑے ہوئے تھے یعنی انتخاب خلافت کا حق اہل ملک کو ہے ، کوئی بیٹا اپنے باپ کے بعد بطور ورداشت اس حق پر قابض نہیں ہو سکتا، آج بھی ویسا ہی مقدس ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ بلکہ ان کی شہادت نے اس حق کو اور بھی نمایاں کر دیا ہے۔ پس کامیاب حضرت امام حسین" ہوئے نه که یزید ہوا۔ حالا قرآن کریم نے نہایت مختصر الفاظ میں کامیابی کا گر بتایا ہے اور میں اس کی طرف ناظرین کو توجہ دلاتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالسَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهْجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ نوٹ :۔ یہ مضمون ابتداء خواجہ حسن نظامی صاحب کے رسالہ ”کامیابی” دہلی میں شائع ہوا۔