انوارالعلوم (جلد 10) — Page 575
انوار العلوم جلد 10 ۵۷۵ توحید باری تعالٰی کے متعلق آنحضرت کی تعلیم کیونکہ علم کامل کے بغیر تصرف کامل نہیں ہو سکتا۔ پس خدا تعالیٰ کے متعلق علم کامل کا ماننا ضروری ہے ۔ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ اور کوئی انسان خدا کے دیئے ہوئے علم کے بغیر کچھ نہیں حاصل کر سکتا۔ پس انسان سمجھے جو کچھ اسے حاصل ہونا ہے۔ خدا ہی سے حاصل ہونا ہے۔ آگے فرمایا وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ اس کی کرسی ساری زمین اور آسمانوں پر چھا گئی۔ کرسی وہ مقام ہوتا ہے جہاں بیٹھ کر کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہر ذرہ جو حرکت کرتا ہے خدا کے تصرف کے ماتحت کرتا ہے۔ اس کے مانے بغیر بھی توحید کامل نہیں ہو سکتی۔ آگے فرمایا وَ لا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وہ جو حفاظت کر رہا ہے اس میں کبھی ناغہ نہیں ہوتا ہمیشہ جاری رہے گی۔ وَهُوَ الْعَلِيُّ باوجود اس کے کہ ہر ذرہ ذرہ سے اس کی قدرت ظاہر ہو رہی ہے، وہ اتنا بلند ہے کہ کوئی خود بخود اس کی کنبہ تک نہیں پہنچ سکتا ۔ العَظِیم مگر وہ بلندی پر ہی نہیں کہ کوئی اس کی گندہ تک نہ پہنچ سکے بلکہ وہ عظیم بھی ہے۔ قدرتوں کے ظہور سے اتنا روشن ہے کہ ہر شخص جو کوشش کرے اسے پا سکتا ہے۔ ہر شخص بڑی جلدی اس تک پہنچ سکتا اور اس کا وصال حاصل کر سکتا ہے۔ پس بتایا کہ توحید کامل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے کامل اتحاد اور وصال ہو جائے۔ جب کوئی خدا کو پالے اس وقت اسے توحید کامل حاصل ہو گئی۔ گویا اتصال کا نام ہی توحید ہے۔ الله یہ وہ توحید ہے جو رسول کریم میں سلیم نے پیش کی ہے کہ اس دنیا میں خدا سے ایسا وصل ہو جائے کہ انسان کا اپنا وجو د مٹ جائے اور خدا ہی خدا باقی رہے۔ توحید کے معنی ہیں خدا تعالیٰ کو ایک بتانا اور ایک قرار دینا، یعنی اپنی زبان کے اقرار کے علاوہ اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کرنا کہ خدا ہی خدا ہے اور کچھ نہیں اگر خدا تعالیٰ کی مرضی سے انسان کی مرضی مطابقت نہیں رکھتی، اگر خدا تعالیٰ کے ارادوں سے انسان کے ارادے نہیں ملتے تو وہ توحید کا سچا اقرار نہیں کرتا۔ اصل توحید یہ ہے کہ انسان اپنے وجود کو مٹا کر دکھاوے کہ خدا تعالی ہی کی مرضی دنیا میں چلتی ہے۔ پھر رسول کریم میں السلام نے دلائل سے شرک کا رد فرمایا ہے۔ آپ نے شرک کے رو میں ایک دلیل یہ دی کہ کوئی چیز دنیا کی ایسی نہیں جو کسی دوسری چیز کی محتاج نہ ہو ۔ ہر ایک چیز دوسری کی محتاج ہے۔ آسمان سے پانی برستا ہے، اس کا تعلق سورج سے ہے۔ گرمی پانی کو بخارات بنا کر اُڑاتی ہے اور اس طرح بادل بنتے ہیں۔ پھر اس سے زمین کی گردش کا تعلق ہے۔