انوارالعلوم (جلد 10) — Page 565
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۶۵ توحید باری تعالیٰ کے متعلق آنحضرت کی تعلیم فتنہ و فساد کو مٹاکر امن و اتحاد کی صحیح بنیاد قائم کر دیں گے۔ اس سال نہ صرف یہ کہ جلسے گزشتہ سال کی نسبت زیادہ منعقد ہونگے بلکہ پہلے سے زیادہ مقتدر اور معزز لوگوں نے ان میں حصہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔ کل ہی کلکتہ سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ مسٹر سین گپتا نے جو کلکتہ کے نہایت معزز آدمی ہیں ، شمولیت کا وعدہ کیا ہے۔ اور بڑے بڑے لوگوں نے اشتہار میں اپنے نام لکھائے ہیں۔ بہت سی اعلیٰ طبقہ کی خواتین نے بھی جلسہ میں شریک ہونے کا اشتیاق ظاہر کیا پچھلے سال تو بنگال کی ایک مشہور خاتون نے جو ایم ۔ اے ہیں ، اس بات پر اظہار افسوس کیا تھا کہ ہمارے طبقہ کو ان جلسوں میں زیادہ حصہ لینے کا موقع کیوں نہ دیا گیا۔ اسی طرح اور مقامات کے معززین کے متعلق بھی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں کہ انہوں نے جلسہ کے اعلانات میں اپنے نام لکھائے ، شمولیت جلسہ کے وعدے کئے اور ہر طرح جلسہ کو کامیاب بنانے ہے۔ میں امداد دی۔ اس تمہید کے بعد میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں جو اس سال کے جلسوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ پچھلے سال رسول کریم ملی ایم کی زندگی کے تین پہلوؤں کو لیا گیا تھا۔ اور میں بھی ان پر اظہار خیالات کیا تھا۔ اس سال ان ۔ ان کے علاوہ دو اور پہلو تجویز کئے گئے ہیں اور وہ نے یہ کہ ۔ (1) توحید باری تعالیٰ کے متعلق آنحضرت میں تعلیم کی تعلیم اور اس پر زور۔ (۲) غیر مذاہب کے بارہ میں آنحضرت ملی ایم کی تعلیم اور تعامل۔ گو دوسرے مقامات پر یہی طریق رکھا گیا ہے کہ مختلف مضامین پر مختلف لوگ اظہار خیالات کریں۔ لیکن اس مقام (قادیان) کے مخصوص حالات کی وجہ سے پچھلے سال بھی ہی طریق تھا کہ تینوں مضامین پر میں نے ہی اظہار خیالات کیا تھا اور اب بھی یہی ارادہ ہے کہ إنْشَاءَ اللهُہ دونوں مضامین پر میں ہی بولوں گا۔ مجھے افسوس ہے کہ اس تقریب کی اہمیت کے لحاظ سے جتنا لمبا کلام اور جس طرز کا کلام ہونا چاہئے تھا بوجہ بیماری اور کھانسی میں اتنا لمبا بیان نہیں کر سکوں گا اس لئے مجبورا اختصار کے ساتھ اہم پہلو لے کر اظہار خیالات کروں گا۔ میں سب سے پہلے توحید کی اہمیت کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ لوگوں میں یہ غلط خیال پھیلا ہوا ہے کہ توحید کے متعلق مختلف مذاہب میں اصولی اختلاف پایا جاتا ہے مسلمان بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کئی مذاہب ایسے ہیں جو توحید کے قائل XXXX