انوارالعلوم (جلد 10) — Page 546
انوار العلوم جلد ۔) ۵۳۶ رسول کریم میں ایک انسان کی حیثیت میں اپنی بیویوں کی محبت پیدا کر دی گئی ہے لوگوں نے کہا کہ عورتوں سے دور بھاگو اور ان کے فریبوں سے بچو۔ مگر محمد رسول الله صل وسلم نے فرمایا کہ عورتوں سے محبت کرو اور ان سے محبت کر کے خدا تعالیٰ تک پہنچو کیونکہ جس طرح خدا تعالیٰ نے ماں کے قدموں کے نیچے جنت بنائی ہے اس طرح بیوی کی دعا کو بھی اپنے قرب کا ذریعہ بنایا ہے پس اس کے دل کو خوش کرو خدا تعالیٰ تم سے خوش ہو گا۔ بیویوں کے احساسات کا خیال رکھو سب احساسات کا خیال رکھتے۔ گھر کے کام کاج میں آپ عملا اس حکم پر عمل کرتے اپنی بیویوں کے ان کا ہاتھ بٹاتے۔ ان سے پیار کرتے ان کی دلدہی کے لئے باریک در باریک راہیں تلاش کرتے ایک بیوی نے ایک گلاس سے پانی پیا تو اسی جگہ پر منہ رکھ کر خود پانی پی لیا۔ ایک بیوی کو جو یہود میں سے تھی دوسری نے غصہ میں یہو دن کہہ دیا تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں کہتیں کہ میں رقم یہو دن نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے نبیوں کی اولاد ہوں۔ ا اگر کوئی بیمار ہوتی تو آپ اس کی بیماری کو اپنی بیماری سمجھتے اور اس سے بھی زیادہ اس کے درد کو محسوس کرتے ان کے جذبات کا خیال رکھتے اور انہیں اپنے عزیزوں سے جدا نہ کرتے بلکہ تعلق بڑھانے میں مدد کرتے۔ اپنی ایک بیوی ام حبیبہ کے گھر میں آپ داخل ہوئے وہ ا۔ وہ اپنے بھائی معاویہ کو جو بہ کو جو بعد میں بادشاہ اسلام ہوئے پیار کر رہی تھیں۔ آپ نے اس امر کو ناپسند نہیں فرمایا بلکہ محبت کی نگاہوں سے دیکھا اور بہن بھائی کی محبت کو طبعی تقاضوں کا ایک خوبصورت جلوہ تصور فرماتے ہوئے پاس بیٹھ گئے اور پوچھا ام حبیبہ کیا معاویہ تمہیں پیارا ہے اُمّ حبیبہ نے جواب دیا۔ ہاں فرمایا اگر یہ تمہیں پیارا ہے تو مجھے بھی پیارا ہے۔ بیوی کا دل اس جواب کو سن کر کس قدر خوشی سے اچھلا ہو گا کہ میرے رشتہ داروں کو یہ غیریت کی نگاہ سے نہیں بلکہ میری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مجھ سے اس قدر محبت رکھتے ہیں کہ جو مجھے جس قدر پیارا ہو اس قدر ان کو بھی پیارا ہوتا ہے گویا وہی نظارہ ہے کہ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی مگر باوجود انسانیت کے اس کامل اور اتم نظارہ کے محمد مسیلم کلی طور پر اور سر سے پا تک اپنے خدا کے تھے۔ اور اپنی بیویوں کو بھی اس کا اور خالص اسی کا بنانا چاہتے تھے۔