انوارالعلوم (جلد 10) — Page 534
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۳۴ لا يسمه الا المطهرون کی تغیر کتاب ہو سکتی ہے۔ جسے خدا تعالیٰ اپنے کلام کے حقائق سے واقف ہونے کا مستحق سمجھتا ہے ، اس پر علم کے دروازے کھول دیتا ہے۔ لیکن جو خدا تعالیٰ سے سے دور ہوتا ہے اسے یہ کتاب ایسی ہی بد نما لگتی ہے جیسی پنڈت دیانند صاحب کو لگی کہ انہیں اس میں کوئی خوبی نظر ہی نہیں آئی۔ وہ لوگ جو ظاہری علوم کے بڑے بڑے دعوے رکھتے تھے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں قرآن کریم کے نکات بیان کرنے میں ایسے ہی بیچ تھے جیسے کمزور دماغ کا انسان ایک اعلیٰ دماغ کے انسان کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ وہ سوائے اس کے کہ یہ کہتے رہے غلط تاویلیں کرتے ہو، قرآن کو بگاڑتے ہو اور کچھ نہ کر سکے ۔ آج انہی کی ذریتیں اور ان کے ساتھی تسلیم کر رہے ہیں کہ آپ نے جو حقائق بیان کئے وہ کسی نے بیان نہیں کئے۔ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قبل سرسید نے قرآن کریم کی تفسیر لکھنی شروع کی۔ اور قرآنی مطالب کو اس طرح پیش کیا کہ وہ نئی تعلیم کے مطابق معلوم ہوں۔ اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود نے کئی آیات کی ایسی تشریح بیان کی کہ اس وقت یورپ کی تحقیقات اس کے خلاف تھی۔ مگر اب حضرت مسیح موعود کی بیان کردہ کئی باتوں کی تصدیق اہل یورپ بھی کرنے لگے ہیں اور کئی ابھی باقی ہیں۔ کیا عجیب بات نہیں کہ ان کی باتیں تو مٹی جا رہی ہیں جنہوں نے زمانہ کے حالات کے مطابق کسی تھیں مگر حضرت مسیح موعود کی فرمودہ باتیں اب مخالف بھی مانتے جا رہے ہیں۔ غرض لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ بچے کلام الہی کے پرکھنے کا معیار ہے کہ جتنا کوئی باطنی علوم میں ترقی کرے گا اتنا ہی زیادہ اس کلام کے سمجھنے میں ترقی کرے گا۔ جس کتاب کے متعلق یہ بات پائی جائے گی وہی خدا کی طرف سے ہوگی۔ یہ دوسرے معنی ہیں اس آیت کے۔ یہ معنی نہیں کہ کوئی ناپاک ہاتھ قرآن کو نہیں لگا سکتا۔ یہ مس تو رسول کریم ملی الم کے زمانہ میں بھی ہوا۔ حضرت عمر ال ال کے متعلق آتا ہے۔ مسلمان ہونے سے قبل انہوں نے بہن سے قرآن مانگا انہوں نے باوجود ان کے مشرک ہونے کے ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ بات یہ ہے کہ قرآن کریم کی حقیقت پر واقف ہونے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں پیدا کرے اور تقویٰ و طہارت اختیار کرے۔ آگے اس کے کئی مدارج ہیں۔ کئی لوگ ہوتے ہیں جو اعلیٰ درجہ کو سامنے رکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں اور سمجھ لیتے