انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 529

انوار العلوم جلدها ۵۲۹ لا يسمد الا المطهرون کی تفسیر دلائل دیئے ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے جو اس آیت میں بیان ہے۔ یہ سیدھی بات ہے کہ ہر انسان اپنا خزانہ اور اپنی قیمتی چیزیں اپنے پیاروں کے لئے محفوظ رکھتا ہے۔ مثلاً انسان اپنی جائداد اپنے وارثوں کے لئے قرار دیتا ہے۔ کوئی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ اس کی جائداد پر قابض ہو جائیں اور اس کے وارث محروم رہ جائیں۔ اس طرح سلطنتیں چاہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ اموال ان کے ملک میں ہوں اس بات کے لئے لڑتی ہیں۔ ہندوستان میں اسی لئے شورش پیدا ہوتی رہتی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں دوسرے ملک کے لوگ ہمارے ملک سے اموال لے جا رہے ہیں۔ ان اموال سے ہمارے ملک کے لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ورنہ سیدھی بات یہ ہے کہ اگر انکا شائر بند ہو جائے تو کپڑے کے کارخانے ہندوستان کے زمیندار نہیں چلا لیں گے ، بڑے بڑے سیٹھ سا ہوا ساہوکار ہی ایسے کارخانوں - خانوں کے مالک ہوں گے اور ممکن ہے اب جو کپڑا ستا ہے، اس وقت لوگوں کو مہنگا ملے مگر شور مچانے کے لئے وہ بھی تیار ہیں اور کہتے ہیں ہندوستان کی حکومت ہندوستانیوں کے ہاتھ میں ہو۔ ہو۔ اگر اہل ہند کو حکومت مل جائے تو زیادہ سے زیادہ تین چار ہزار لوگ پارلیمنٹ کے ممبر بن جائیں گے اور باقی سارے لوگ ان کے جوئے کے نیچے ہوں گے۔ مگر وہ بھی حکومت کے ایسے ہی شائق ہیں جیسے وہ لوگ جو اس بات کے امیدوار ہیں کہ وہ پریزیڈنٹ بن جائیں گے یا کوئی اور بڑا عہدہ حاصل کر لیں گے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ لوگ اپنے ملک کا خزانہ اپنے لوگوں کے لئے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ مذہبی کتب بھی بطور خزانہ ہوتی ہیں۔ جس طرح جسمانی خزانے ہوتے ہیں اس طرح روحانی خزانے بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم کو کہیں شفاء قرار دیا گیا ہے ، کہیں پانی سے تشبیہ دی گئی ہے جس سے کھیتیاں اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ ادھر ہم دیکھتے ہیں یہ قانون قدرت بلکہ قانون فطرت ہے کہ اپنا خزانہ اپنوں کو دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب اگر قرآن خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور یہ روحانی خزانہ ہے تو ضرور ہے کہ یہ خزانہ انہیں کو ملے جو اس سے حقیقی تعلق رکھنے والے ہوں اور یہ انہیں کے لئے کھلے جن کو اس کے کھولنے کی جستجو اور شوق ہو۔ اگر اس کے خلاف ہو اور یہ خزانہ اس کے مخالفوں پر کھلے تو یہ خدا تعالٰی کی کتاب نہیں ہو سکتی۔ انسانی کتابوں میں تو یہ ہوتا ہے ، گورنمنٹ ایک قانون بناتی ہے مگر اس قانون کو گورنمنٹ کی نسبت دوسرے زیادہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ کئی بار پاؤ نیر" اور "رسول" نے لکھا ہے۔ مسٹر جناح قوانین سے زیادہ واقفیت رکھتا ہے، اس لئے گورنمنٹ کے وزراء کو