انوارالعلوم (جلد 10) — Page 523
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۲۳ لا بسمہ الا المطهرون کی تفسیر اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ لاَ يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی تفسیر ( فرموده ۱۴ جنوری ۱۹۲۹ء بمقام مسجد احمد یہ لاہور) میں نے ایک دفعہ ایک رؤیا دیکھا تھا جسے کئی دفعہ سنا چکا ہوں۔ اس کے اندر اخلاقی اور روحانی سبق دیا گیا ہے۔ چونکہ اس موقع کے لحاظ سے بھی وہ اس قابل ہے کہ اس کے ذکر سے میں اس وقت تقریر شروع کروں اس لئے اس کا ذکر کرتا ہوں۔ میں نے رویا دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بچہ ہے۔ جو نہایت خوبصورت نہایت حسین نہایت پاکیزہ اور نہایت ذکی ہے۔ جس کے چہرہ سے نور کی شعاعیں نکلتی اور جس کی آنکھوں سے زہانت اور شرافت ٹیکتی ہے۔ آٹھ نو سال کی عمر ہے اور نہایت خوبصورت لباس پہنے ہوئے ہے۔ ایک سنگ مرمر کا چبوترہ ہے جس کے ساتھ سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ وہ بچہ دوسری یا تیسری سیڑھی پر کھڑا اوپر ہاتھ اٹھائے اور سر جھکائے دعا مانگ رہا ہے۔ تب میں نے دیکھا بادلوں میں سے ایک حسین عورت جس کے لباس کے رنگ غیر معمولی شوخی اور خوبصورتی رکھتے ہیں اور نہایت خوشنما رنگوں والے پر رکھتی ہے، نیچے اتری اور بچے پر مجھک کر اسے پیار کرنے لگی۔ اس وقت مجھے بتایا گیا کہ بچہ حضرت مسیح ہے اور عورت حضرت مریم۔ تب میری زبان پر یہ فقرہ جاری ہوگا LOVE CREATES LOVE محبت محبت پیدا کرتی ہے۔ گیا یہ ایک نہایت ہی زبردست صداقت ہے کہ محبت قلوب کے نہایت باریک خانوں میں داخل ہو جاتی ہے ہے۔ آواز کے لحاظ ظ سے سے یہ یہ سب سے زیادہ خاموش چیز ہے ، لیکن اثرات کے لحاظ سے سب سے زیادہ واضح ہے۔ وہ شخص جس کی آنکھ محبت کے بار یک اثرات دیکھنے کی قابلیت ہے۔