انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 517

انوار العلوم جلد ۱۰ بھی ، پھر قرآن کا کیا اعتبار رہا۔ ۵۱۷ فضائل القرآن (1) اصل بات یہ ہے کہ قرآن کے متشابہات پر غور ہی نہیں کیا گیا۔ سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ هُوَ الَّذِى اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ أَيْتُ مُّحْكَمْتُ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ أُخَرُ مُتَشْبِهْتُ لے کہ وہ خدا ہی ہے جس نے اس قرآن کو اپنے رسول پر اتارا۔ اس میں کچھ تو محکمات ہیں جو اُمّ الکتاب ہیں اور جو أم الكتاب ہیں اور کچھ متشابہات ہیں۔ اس کے متعلق لوگ کہتے ہیں۔ ہمیں کیا معلوم کہ کونسی آیت محکم ہے اور کونسی متشابہ ۔ اس کے مقابلہ میں سورۃ ہود میں آتا ہے۔ کتب اُحْكِمَتْ أَيْتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِير لله که یه کتاب ب و وہ ہے جس کی ساری آیات محکمات ہیں۔ اس سے بظاہرا بظاہر اوپر کی بات غلط ہو گئی کہ قرآن کی بعض آیات متشابہ ہیں اور بعض محکم۔ تیسری جگہ آتا ہے۔ الله نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتْباً مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ لا یعنی خدا ہی ہے جس نے بہتر سے بہتر بات یعنی وہ کتاب نازل فرمائی ہے جو متشابہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی ساری آیتیں ہی متشابہ ہیں۔ حالانکہ پہلے ساری آیات کو محکم قرار دیا گیا تھا۔ اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ محکم اور متشابہ کا مطلب اور تھا جو سمجھا نہیں گیا۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ متشابہ کے معنی یہ لئے جاتے ہیں کہ جس سے شکوک پیدا ہوں۔ حالانکہ قرآن متشابہ کی یہ تفسیر کرتا ہے ۔ مَثَانِيَ تَقْشَعِرٌ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللهِ ١٣ کہ اس کے مضامین نہایت اعلیٰ ہیں اور جو لوگ اس کتاب کو سمجھ کر پڑھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے جسم کا رو آن رو آں اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جھک جاتے ہیں۔ یعنی ان کے قلوب میں خدا تعالیٰ کی محبت کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ اب بتاؤ ۔ کیا کسی شکی بات سے اس طرح ہو سکتا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ متشابہ کا اور مطلب ہے اور وہ یہ کہ متشابہ متشاب کے معنی ہیں جو دوسری سے ملتی ہو۔ یعنی متشابہ وہ تعلیم ہے جو پہلی تعلیموں۔ ملتی جلتی ہو۔ مثلاً روزہ رکھنا ہے۔ یہ حکم اپنی ذات میں متشابہ ہے کیونکہ یہ تعلیم پہلے بھی پائی جاتی تھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ ، پس مجرد روزہ رکھنے کا حکم متشابہ ہے۔ اسی طرح قربانیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا ها یعنی ہر قوم کے لئے ہم نے قربانی کا ایک طریق