انوارالعلوم (جلد 10) — Page 10
انوار العلوم جلد ID ۱۰ مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں پاسکتے ہیں اور ہمارا کیا حق ہے کہ ہم دوسروں پر ناراض ہوں گورنمنٹ پر ناراض ہوں یا ہندوؤں، پارسیوں، عیسائیوں اور سکھوں پر ناراض ہوں۔ ہمارا اپنا قصور ہے کہ علمی ترقی میں آگے نہیں بڑھے۔ خود ہم نے اپنی اولاد کی تعلیمی نگرانی نہیں کی۔ اور شروع میں انگریزی تعلیم کا پانا ہی ناجائز قرار دے دیا۔ ایسی حالت میں ایک ہی علاج ہے کہ بجائے دوسروں پر ناراض ہونے کے ہمت اور محنت سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں تاکہ گذشتہ کی تلافی اگر نہ ہو سکے تو آئندہ کے نقصان سے تو محفوظ ہوں۔ قومی ترقی ترقی کا راز یاد رکھنا چاہئے کہ قومی ترقی انفرادی اور قومی ذمہ داریوں کے پورا کرنے کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ جب تک وہ ذمہ داری جو ہم میں سے ہر ایک پر قوم کا ایک ایک فرد ہونے کی حیثیت سے ہے اُسے پورا نہ کریں اور اس ذمہ داری کو جو قومی حیثیت سے سب پر ہے پورا نہ کیا جائے قوم میں زندگی کے آثار پیدا نہیں ہو سکتے۔ قوم افراد کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اگر افراد کی حالت اچھی نہ ہو تو قومی حالت کیونکر اعلیٰ ہو گی۔ شخصی صحت اگر درست نہ ہو تو قومی ترقی کیونکر ہوگی۔ اسی طرح اگر مجموعی حیثیت سے قومی اصلاح نہ ہو تب بھی ترقی نہیں۔ اس راز کو سمجھنے کے لئے عمارت کی مثال بہت صاف ہے۔ ایک عمارت کے لئے ضرورت ہے، اینٹ، چونا، لکڑی اور لوہا وغیرہ کی۔ اگر اینٹ خراب ہو یا دوسرا مصالحہ اچھا نہ ہو۔ خواہ کیسے ہی لائق اور قابل معمار اور انجینئر اس عمارت کو بنانے والے ہوں وہ عمارت اعلیٰ درجہ کی نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر سامان عمارت تو اعلیٰ درجہ کا ہو لیکن جاہل معماروں کے ہاتھ میں ہو تو بھی اس میں نقص رہ جائے گا۔ اس لئے کہ وہ اس مصالحہ کو عمدگی اور صحیح طریق سے استعمال کرنا نہیں جانتے۔ i ٹھیک اسی طرح قومی ترقی کے لئے دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔ افراد کی حالت درست اور عمدہ ہو۔ اور پھر ان افراد سے مجموعی طور پر کام لینے والے بھی صحیح دماغ اور فکر رکھتے ہوں۔ جب تک دونوں باتوں کا انتظام نہ ہو تمام محنت اکارت جاتی ہے۔ لیڈر شور مچاتے ہیں کہ قوم بن جاوے اور وہ ایسی ترقی کرے۔ میں کہتا ہوں کیا محض اس قسم کے دعوؤں اور شور سے قو میں بنا کرتی ہیں؟ اس کے لئے سب سے اول ضرورت ہے کہ افراد قوم کی انفرادی اصلاح ہو ان کی تربیت ہو۔ جب تربیت ہو چکے تو وہ قوم کے مفید اجزاء بن سکیں گے۔ پھر ان کی قابلیت کے موافق ان سے کام لیا