انوارالعلوم (جلد 10) — Page 475
انوار العلوم جلد ۱۰ ۴۷۵ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح ووٹ کافی رکھے گئے ہیں۔ پس چونکہ نہرو کمیٹی کی تجاویز کے مطابق کم سے کم پچھتر فیصدی ہندو ممبر ضرور مرکزی پارلیمنٹوں میں ہونگے ، اس لئے قانون اساسی کا صرف ہندو ووٹروں کی مدد سے بدلایا جا سکتا بالکل ممکن ہے۔ اور یہ صورت کہ ایک ملک کا قانون اساسی ملک کی ایک اہم اقلیت کی مرضی کے صریح خلاف بدلا جا سکے۔ ملک کے امن کا کبھی موجب نہیں ہو سکتا۔ پس اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی تعداد کم سے کم چونتیس یا تینتیس فیصدی کی جائے۔ تاکہ کوئی ایسی تبدیلی بغیر مسلمانوں کی رائے کے نہ ہو سکے۔ یہ کہنا کہ اقلیتوں کو زائد نمائندگی دینا اصول کے زائد نمائندگی خلاف اصول نہیں خلاف ہے۔ دنیا کی کانسٹی ٹیوشنز (CONSTITUTIONS) سے بے خبری کا ثبوت ہے۔ زیکو سلویکا میں اقلیتوں کو ان کی تعداد سے زائد حقوق دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ جرمن اقلیت نے پانچ اپریل ۱۹۲۲ء کو لیگ آف نیشنز میں جب شکایت کی کہ ان سے زیکو سلیویکا میں اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ تو جو جواب لیگ کو سلویکا گورنمنٹ نے دیا اس کا ایک فقرہ یہ بھی ہے کہ :۔ وہ (یعنی جرمن) باوجود اس کے قومی مجلس میں اپنی تعداد سے زیادہ نشستیں رکھتے ہیں۔ اور اگر انہیں کافی اکثریت حاصل ہو جائے تو قانون اساسی کو بدل سکتے ہیں۔ " غرض میرے نزدیک ایک علاج موجودہ مشکل کا یہی ہے کہ مسلمانوں کو چونتیس (۳۴) یا کم سے کم تینتیس (۳۳) نشستیں مرکزی پارلیمنٹ اور سینٹ میں دی جائیں تاکہ ان کی رائے کے بغیر قانون اساسی نہ بدل سکے۔ مذکورہ بالا علاج تو عام امور کے اسلامی مفاد سے تعلق رکھنے والے امور میں تبدیلی متعلق ہو گا لیکن بعض سوالات مسلمانوں کے خاص حقوق سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور میرے نزدیک ان کی تبدیلی سوائے مسلمانوں کی مرضی کے کسی صورت میں نہیں ہونی چاہئے ۔ وہ امور وہی ہیں جن کا ذکر میں اوپر کر آیا ہوں۔ ان امور کے متعلق لکھنو پیکٹ والا سمجھو تہ بہترین ہے۔ یعنی یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ ان امور میں تبدیلی اس وقت تک نہیں ہونی چاہئے کہ جب تک مرکزی پارلیمنٹ کے منتخب شده مسلمان ممبر دو تہائی ووٹ کے ساتھ کسی تبدیلی کے حق میں رائے نہ دیں۔ اس وقت