انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 472

انوار العلوم جلده ۴۷۲ شهر ور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح ۔ عہدوں پر بھی سرفراز ہیں ، انہیں انگریزوں کے کان بھرنے کا اچھا موقع ملتا ہے۔ اس وجہ سے بعض انگریز بھی خیال کرنے لگے ہیں کہ مسلمان نالائق ہیں۔ حالانکہ اگر ان عہدہ داروں کے ریکارڈ نکال کر دیکھے جائیں جن کو نالائق قرار دیا جاتا ہے تو اکثر ایسے نکلیں گے جو ہندو افسر کی ماتحتی میں آنے سے پہلے نہایت اعلیٰ ریکارڈ رکھتے تھے۔ مگر افسوس ہے کہ انگریز افسر بھی بغیر محنت کے صرف سنی سنائی باتوں پر یقین لا رہے ہیں۔ اور ایک قوم کی قوم کے خون کرنے سے نہیں ڈرتے۔ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قوم کی تعداد کے مطابق مناسب آبادی کے مطابق ملازمتین محمدوں کا مطالبہ رائج الوقت سیاست کے خلاف ہے۔ یورپ کی اقلیتوں کے متعلق یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے۔ اور اس مطالبہ کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہندوستان میں اس مطالبہ کو ادنی اور فضول قرار دیا جائے۔ چنانچہ مثال کے طور پر پولینڈ کو ہی لے لو۔ اس میں یہودیوں کی اقلیت کے متعلق یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ :۔ یہودیوں کو مناسب آبادی کے لحاظ سے سرکاری ملازمتوں میں حصہ دیا جائے گا۔ ۲ لٹویا حکومت کے انتظام کے دیکھنے کیلئے لیگ کی کونسل نے ایک کمیشن مقرر کیا تھا۔ اس نے جو رپورٹ کی ہے، اس سے بھی معلوم ہوتا کہ اس اصل کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔ کمیشن لکھتا ہے کہ یہودیوں سے انصاف نہیں ہوتا۔ حکومت کے عہدوں میں یہودی اپنی تعداد آبادی سے بہت کم حصہ پا رہے ہیں۔ ۶۳ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملازمتوں کے سوال کو ملازمتوں کا سوال نہایت اہم ہے معمولی نہیں قرار دیا جاتا۔ اور اس کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہر اک قوم اپنی تعداد کے مطابق حکومت کے محمدوں میں حصہ پائے، تاکہ اس کے ہم مذہب اس امر کا خیال رکھ سکیں کہ اس قوم کے وہ حقوق جو قانون کے ذریعہ سے محفوظ کر دیئے گئے تھے قانون کے استعمال کے ذریعہ سے ضائع تو نہیں کر دئے گئے۔ غرض ملازمتوں میں مناسب حصہ پانا ہر اک قوم کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔ اور یہ ضروری ہے کہ آئندہ نظام حکومت میں اس کا بھی انتظام کر لیا جائے۔