انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 8

انوار العلوم جلد ۲۵ A مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں جب تک ہم اندرونی اصلاح نہ کریں اور نفس میں تبدیلی نہ کریں فسادات نہ مٹیں گے۔ مسلمانوں کی تعلیماں میں ایک طرف ان فسادات کے اثرات کو دیکھتا ہوں جو مسلمانوں پر پڑتے ہیں اور پھر ملک کی متحدہ ترقی پر ہوتے ہیں اور دوسری طرف ایسے موقعوں پر مسلمانوں کو کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ اگر پھر ایسا موقع ہوا تو ہم بتا دیں گے اور دکھا دیں گے۔ اس قسم کے دعوؤں کو سن ک قسم کے دعوؤں کو سن کر مجھے افسوس آتا ہے کہ اس سے ان ان کی حقیقی وقعت اور عزت کم ہو رہی ہے۔ میری عمر ۳۸ سال کی ہے مگر میرا تجربہ اور تاریخی علم بتاتا ہے کہ ہمیشہ ہی مسلمانوں نے بتا دینے اور دکھا دینے کے دعوی کے باوجود کبھی کچھ دکھایا بھی؟ جواب میں ہے کہ کچھ نہیں۔ اگر بتانے اور دکھانے سے مراد لڑائی جھگڑے اور ملک میں خون کی ندیاں بہا دینا ہے تو میں کہوں گا کہ یہ قابل شرم ہے خواہ کوئی قوم کرے۔ کیا دوسروں کی جان لینا اور لوگوں کو مارنا بھی بہادری ہے۔ اگر یہ بہادری ہے تو وہ لوگ جو دنیا کے امن کو تباہ کرتے اور ڈاکے مار کر قتل و غارت کرتے اور بالآخر پھانسی پاتے ہیں سب سے بڑے بہادر ہوں گے؟ کیا تم ان کو بہادر کہتے ہو ؟ کوئی عقلمند اور شریف الطبع انسان ایسے خونیوں اور ظالموں کو بہادر نہیں کہتا۔ اگر اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر دوسروں کی جان بچاتے ہو اور کمزوروں کی حفاظت کرتے ہو تو یہ بہادری ہو گی۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ملک کے امن کو برباد کرنا اور فتنہ و فساد پیدا کرنا یہ بہادری نہیں۔ میں مسلمانوں کو کہتا ہوں اس لئے کہ خطاب انہیں سے ہے کہ ہے کہ بتانے اور دکھانے کا۔ یہ مطلب نہیں۔ بتانے اور دکھانے کی کوئی اور بات ہے۔ تم گزشتہ ۸۰ سال کی تاریخ پر نظر کرو کیا کوئی بھی میدان ایسا ہے جس میں تم نے کچھ کر کے دکھایا ہو۔ تم جانتے نہیں کہ ہمارے اندر کیسی طاقتیں ہیں ان پر غور کرو اور پھر کسی شعبہ زندگی میں کچھ کر کے دکھاؤ تو بات بھی ہے۔ تم ہندوؤں کے مقابلہ میں یہ دیکھو کہ تعلیم، تجارت، صنعت و حرفت اور ملازمت کے مقابلہ میں کہاں ہو؟ کیا تم بڑھ گئے ہو یا وہ آگے نکل چکے ہیں۔ اگر تم پیچھے ہو اور ظاہر ہے کہ ہو تو یہ وقت ہے کہ کچھ کر کے دکھاؤ اور اپنے عمل سے بتاؤ کہ تم کو پیچھے ہو مگر ہمت اور کوشش سے آگے بڑھ سکتے ہو۔ میں جانتا ہوں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ ہم بتا دیں گے دکھا دیں گے تو وہ سچ کہتے ہیں ان میں یہ قوت اور استعداد ہے مگر ان کا نفس انکو دھوکا دیتا ہے۔ پس اس غفلت اور غلط فہمی کو چھوڑ دو اور ایک عزم صمیم کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ وہ دن کب