انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 459

انوار العلوم جلد ۱۰ ۴۵۹ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح حق بھی نہیں لے سکتے جس قدر حق کہ ان کو آبادی کے لحاظ سے ملنا چاہئے۔ پس یہ امید کرنی کہ اس انتظام کی رو سے مسلمانوں کو ان کی آبادی سے زیادہ حق مل سکے گا۔ ایک مجنونانہ خیال ہے۔ پس نہرو کمیٹی کے فیصلہ کی رُو سے مسلمانوں کا سخت نقصان ہوا ہے۔ اور ضروری ہے کہ کم سے کم ایک ثلث ممبریوں کا حق ان کے لئے محفوظ رکھا جائے۔ نہرو کمیٹی جو دلائل اس کے خلاف پیش کرتی ہے وہ یہ نہرورپورٹ کے دلائل ہیں کہ یہ :۔ ا۔ کسی قوم کو اس کی تعداد سے زائد حق دینا اصول کے خلاف ہے۔ ۲۔ اگر مسلمانوں کو زائد حق دیا گیا تو دوسری قلیل التعداد جماعتوں کی حق تلفی ہوگی۔ ۔ اگر مسلمانوں کے لئے ایک ثلث نشستیں خاص کر دی جائیں تو ان کی تقسیم کا کیا طریق ہو گا؟ اس طرح ہمیں لازماً پنجاب اور بنگال میں بھی مسلمانوں کو محفوظ نشستوں کا حق دینا پڑے گا جسے ہم غلط ثابت کر چکے ہیں۔ پس علاوہ اس کے یہ بات اصولی طور پر غلط ہے، اس پر عمل کرنے میں بھی مشکلات ہیں۔ پہلی بات کہ کسی جماعت کو اس کی تعداد سے زائد حق دینا اصول کے درست ہوتی تو تعداد سے زائد حق خلاف ہے بالکل نہیں۔ اگر یہ بات درست ہونا بین الاقوامی گفتگو میں ہمیشہ بڑی حکومتوں کے نمائندے زائد ہوتے اور چھوٹی حکومتوں کے کم۔ لیکن واقعہ یہ ہے واقعہ یہ ہے کہ رائے کے لحاظ سے وہی حق بیلجیئم کو جو ایک چھوٹی سی حکومت حاصل ہے جو کہ برطانیہ کو جو چالیس کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ پس قوموں کے حقوق کے وقت خالی تعداد نہیں دیکھی جاتی بلکہ تعداد کے علاوہ اور امور بھی قابل غور ہوتے ہیں۔ ہے۔ میرے نزدیک نیابت کی نسبت کے سمجھنے کے لئے نیابتی حکومت کی حقیقت نیابتی حکومت کی حقیقت کو بھی سمجھ لینا چاہئے۔ نیابتی حکومت کی بنیاد اسی اصل پر ہے کہ ہر انسان آزاد ہے۔ لیکن (1) وہ ایک کامیاب زندگی بسر کرنے کے لئے مجبور ہے کہ کسی نہ کسی حکومت سے وابستہ ہو ۔ (۲) آزادی کا استعمال اسی وقت جائز ہے۔ جبکہ اس سے دوسروں کو نقصان نہ پہنچتا ہو ۔ چونکہ یہ دونوں مقصد بغیر ایک نظام سے وابستہ ہونے کے حاصل نہیں ہو سکتے اس لئے حکومت کا قیام ضروری ہے۔ چونکہ یہ امر تسلیم کیا جا چکا ہے کہ ہر انسان آزاد ہے۔ اس لئے حکومت کا بہترین طریق وہ ہی ہو گا جس میں فرد کی