انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 457

انوار العلوم جلد ) لدود شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح وہ مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھائیں گے کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ ڈسٹرکٹ بورڈوں میں زیادہ تر زمیندار کا انٹرسٹ ہوتا ہے اور بنیا زمین تو خرید لیتا ہے لیکن وہ کبھی زمیندار نہیں بننا چاہتا۔ اس وجہ سے وہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے کام میں اس قدر حصہ نہیں لیتا۔ جس قدر کہ بظاہر اسے لینا چاہئے اور جو ہندو زمیندار - زمیندار ہے۔ وہ اسی طرح بننے کے ہاتھوں مظلوم ہے جیسے کہ ہم مسلمان ہیں سرکاری عہدوں کو دیکھو۔ ان میں کانگڑہ حصار رہتک گوڑگانواں کرنال انبالہ کے ہندو زمیندار بھی ویسے ہی کم نظر آئیں گے جیسے کہ مسلمان بلکہ ان سے بھی کم۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ مل کر ہندو بنئے کے تسلط کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور ڈسٹرکٹ بورڈوں میں زیادہ مقابلہ اس طبقہ کے لوگوں سے ہے نہ کہ ہندو تاجر اور ساہوکار ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے انتخاب میں مرکزی انجمنیں دخل نہیں دیتیں اور نہ شہروں سے آکر لوگ امید وار بنتے ہیں۔ لیکن کونسلوں میں مرکزی مجالس آکر دخل دیتی ہیں اور وہاں کے مالدار لوگ آکر مقابلہ کرتے ہیں پس دونوں کی مشابہت آپس میں بالکل ہی نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ اول تو جو اعداد پیش کئے گئے ہیں۔ وہ اس صورت میں نہیں کہ سائنٹیفک (SCIENTIFIC) طور پر ان سے کوئی نتیجہ نکالا جا سکے۔ اور سکے۔ اور اگر ان سے وہی نتیجہ نکلے جو نکالا جاتا ہے تو بھی ڈسٹرکٹ بورڈوں پر کونسلوں کے الیکشنوں کا قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ دونوں میں کوئی مماثلت نہیں اور نتیجہ نکالنے کے لئے مماثلت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ایک منٹ کے لئے تمام وہ امور تسلیم مسلمانوں کی قومی ہستی کو خطرہ کر لو جو اس مثال کے پیش کرنے والے منوانا چاہتے ہیں۔ پھر بھی میں پوچھتا ہوں کہ کیا ان اعداد سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان ہمیشہ انتخاب میں غالب رہیں گے۔ یا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کبھی مسلمان بھی غالب ہو سکیں گے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی عقل مند بھی ان اعداد سے یہ نتیجہ نکالے گا کہ ہمیشہ مسلمان اپنی تعداد سے زیادہ نشستیں لے لیا کریں گے کیونکہ جس آرگنائزیشن (ORGANIZATION) کا دروازہ مسلمانوں کے لئے کھلا ہو گا۔ اس کا دروازہ ہندؤوں کے لئے بھی کھلا ہو گا اور پھر جب ہم اس امر کو مد نظر