انوارالعلوم (جلد 10) — Page 443
انوار العلوم جلده) ۴۴۳ نهرو ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح قوموں کو سیاسی آزادی سے بھی زیادہ مرغوب ہوتا ہے۔ اور جس قدر وہ اس کی حفاظت کے لئے لڑتی ہیں ، اتنی سیاسیات کے لئے بھی نہیں لڑتیں۔ یہ کلچر ایک ہیولی کی سی چیز ہے اسے مادی اشیاء کی طرح معین بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس کا انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہر قوم اپنے مذہب کے سبب سے یا اپنے گردو پیش کے حالات کے سبب سے ایک خاص قسم کا دماغی میلان پیدا کر لیتی ہے۔ اور اس کی تمام ترقی اسی لائن پر ہوتی ہے اس کا فلسفہ اس کا تمدن اس کی علمی ترقی اس کی اقتصادی ترقی اسی دائرہ میں چکر کھاتی ہوئی اپنے وجود کو نمایاں کرتی چلی جاتی ہے۔ گویا وہ ذہنی زمین ہے۔ ہے۔ جس پر اُگنے والا ہر علم پودوں کی طرح ایک خاص رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ جس طرح مختلف زمینوں میں مختلف پھل پھول ایک امتیازی صورت پیدا کر لیتے ہیں۔ اسی طرح مختلف کلچرز کے ماتحت نشو و نما پانیوالے ایک خاص رنگ اور ادا پیدا کر لیتے ہیں۔ اور قوموں کو اپنے کلچر سے ایک ایسی طبعی مناسبت ہو جاتی ہے کہ اس سے باہر جا کر وہ اسی طرح مُرجھا جاتی ہیں جس طرح کہ ایک خاص ملک کا درخت دوسرے ملک کی زمین میں لگایا جاکر۔ تمام علوم ایک ہی ہیں لیکن انگریزوں اور فرانسیسیوں اور وں اور روسیوں اور جزء جرمنوں کو دیکھو۔ ان میں سے ہر ایک ان کی طرف ایک خاص امتیازی رنگ میں متوجہ ہوتا ہے۔ ہندوستانیوں کو بھی سب سے بڑی شکایت یہی ہے کہ انگریزوں نے مغربیت سے ہمارے مشرقی اخلاق کو رنگ کر ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ غرض یہ تہذیب مذہب کے بعد ہر اک شے سے زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ کلچر ہر قوم کے جسم کے لئے زندگی کے سانس کا کام دیتی ہے۔ جس قوم کا کوئی مخصوص کلچر نہیں اس کی کوئی زندگی ہی نہیں۔ وہ آج نہیں تو کل دوسری اقوام میں جذب ب ہو کر اپنے وجود کو کھو بیٹھے گی کیونکہ وہ مفید وجود نہیں۔ جس طرح مختلف لیباریٹریز میں بیٹھے مختلف سائنس دان اپنے اپنے رنگ میں علوم کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اسی طرح مختلف اقوام اپنی کلچر کے دائرہ میں انسانی حیات کے فلسفہ کے تجربے کر کے دنیا کو نفع پہنچاتے ہوئے۔ اور اس کے نقطہ نگاہ کو پورا کرتے ہوئے اپنی کلچر کو بھی ترقی دے رہی ہیں۔ جو قوم اس مشترک خزانہ کے بڑھانے میں حصہ نہیں لیتی، وہ اخلاقاً تو مردہ ہی ہوتی ہے مادی طور پر بھی آخر مرکز ہی رہتی ہے۔ ہندو صاحبان کو جو آج حکومت کا خیال ہے وہ بھی تو اس کلچر کی وجہ سے ہے "اچھی کا قائم مقام نہیں ہو سکتی ۔ " کا مقولہ بھی در حقیقت اس صداقت پر مشتمل حکومت اپنی حکومت کا