انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 439

انوار العلوم جلد 10 ۱۳۹ شهر ور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح بھی دخل حاصل نہ ہو گا۔ پس برابری تبھی ہوتی ہے کہ پنجاب اور بنگال میں نشستیں محفوظ ہوں۔ اور اس طرح مسلمانوں کو بھی کہا جا سکے کہ جس طرح ہندوؤں نے تم پر ان صوبوں میں اعتبار کیا ہے ، تم بھی دوسرے صوبوں میں ان پر اعتبار کرو۔ اور دل سے ہر ایک قسم کے شکوک کو نکال دو۔ نہرو کمیٹی اس ، اس غالبیت کے اصول پر خاص زور دیتی ہے وہ لکھتی ہے کہ :۔ ہم ایک قوم کا دوسری پر دائمی طور پر تسلط نہیں دیکھ سکتے۔ ہم اس امر کو کلی طور پر روک نہیں سکتے۔ لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم دیکھیں کہ ایک قوم کو دوسری پر تسلط کا موقع نہ دے دیا جائے ۔ بلکہ ہر ایک فرد یا قوم کو اس سے روکا جائے کہ وہ دوسرے فرد یا دوسری قوم کو تکلیف دے۔ اور اس سے ناجائز فائدہ اُٹھائے۔" ♡♡ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس نے اس تسلط کو روک دیا ہے۔ مدراس بہار وغیرہ میں نہرو رپورٹ خود تسلیم کرتی ہے کہ ہندوؤں کو غلبہ رہے گا۔ اور مسلمانوں کی اقلیت وہاں نا قابل التفا التفات" ہے۔ اور اس میں لکھا ہے کہ :۔ ८ یہ بات ہر ایک سمجھ لے گا کہ مسلمان اقلیتوں کے حق میں یہ رعایت کر کے (یعنی بهار یو پی مدراس وغیرہ میں نشستیں محفوظ کر کے) ہم وہ نقائص پیدا نہیں کر رہے جو اکثریت کے لئے محفوظ نشتوں کا قاعدہ جاری کرنے کی صورت میں پیدا ہوتے تھے۔ کیونکہ ایک اقلیت (یعنی اس قسم کی چھوٹی اقلیت) بہر حال اقلیت ہی رہے گی۔ خواہ اس کے لئے بعض نشستیں محفوظ کر دی گئی ہوں۔ یا نہ کی گئی ہوں۔ اور کسی صورت میں بھی اکثریت پر غالب نہیں آسکتی۔ ۵۶ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ نہرو کمیٹی کے نزدیک بمبئی، مدراس یو پی وغیرہ صوبہ جات میں مسلمان ہمیشہ اقلیت ہی کی صورت میں رہیں گے۔ جس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان صوبوں میں ہمیشہ حکومت ہندوؤں کے ہاتھ میں رہے گی اور اس کا نام انہوں نے تسلط رکھا ہے۔ پس جب کہ اس قسم کا تسلط دو دوسرے صوبوں میں ہو گا اور اس سے کوئی نقص واقع نہ ہو گا تو کیا وجہ ہے کہ دیسی ہی حالت پنجاب اور بنگال میں نہ پیدا کر دی جائے اگر ہمیشہ ایک قوم کا نیابت میں زیادہ ہونا بُرا ہے۔ تو وہ سب جگہ بُرا ہے۔ اور اگر اس کی بمبئی اور مدراس میں برداشت کی