انوارالعلوم (جلد 10) — Page 417
انوار العلوم جلد ۱۰ ۱۷ شہرو رپورٹ اور مسلمانوں کے مصالح کو آئندہ بدل نہ دیا جائے گا۔ جب حق حکومت مرکزی حکومت کو دیا گیا ہے اور قانون اساسی کو بدلنے کا حق بھی اسے دے دیا گیا ہے تو کل کو وہ ان قوانین کو بدل سکتی ہے اور اپنے لئے یہ اختیار تجویز کر سکتی ہے کہ ہم صوبہ جات کے معاملات میں ضرورت کے موقع پر دخل دے سکتے ہیں اور ان کی حدود کو بھی بدل سکتے ہیں۔ پس جب تک ملکیت مرکزی حکومت کی تسلیم کی گئی ہے اس وقت تک اس بارے میں کوئی حقیقی حفاظت مسلمانوں کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ علاج صرف یہی ہے کہ حق حکومت صوبہ جات کو دیا جائے۔ لوگ نہرو رپورٹ کی تعریف کرتے ہیں لیکن میں جب ساہو کارے والی روح کا مظاہرہ اس مقام پر آتا ہوں تو اس رپورٹ کے لکھنے والوں کی عقل پر مجھے تعجب آتا ہے۔ انہوں نے بعض دوسرے امور میں مسلمانوں کے حقوق کو تلف کر کے خواہ مخواہ انہیں بھڑکا دیا ۔ اگر وہ صرف حق حکومت مرکزی حکومت کو دے کر صوبہ جات کو سب اختیار دے دیتے اور مسلمانوں کو جُدا گانہ انتخاب کا حق بھی دے دیتے۔ پنجاب اور بنگال میں اکثریت بھی دے دیتے۔ تب بھی ہندوؤں کا کچھ نہ بگڑتا ۔ کیونکہ وہ حکومت کے ملنے کے بعد جس وقت چاہتے ان حقوق کو ملیا میٹ کر سکتے تھے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ ساہوکارے والی روح ان پر غالب تھی۔ اور وہ منہ سے بھی مسلمانوں کو کچھ دینے کیلئے تیار نہ تھے۔ جس طرح کہ گڑیانی کے ایک بننے کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ وہاں کے ایک پٹھان رئیس سے کہا کرتا تھا کہ خان صاحب تمہارا مال سو ہمارا مال اور ہمارا مال ہوا ہا ہا ہا ہا ہاہا۔ یعنی ہنسی میں بھی یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ ہمارا مال سو تمہارا مال ۔ بلکہ ہنس کر بات ختم کر دیتا تھا۔ یہی حال نہرو کمیٹی کا ہے کہ اس نے نہی میں بھی مسلمانوں کو حق نہ دیئے۔ اگر وہ یہ حق رکھ کر باقی سب کچھ دے دیتی تو شائد اکثر مسلمان دھوکے میں آ جاتے۔ اور چند سمجھ دار لوگ ہی اصل حقیقت تک پہنچتے مگر ان کے سمجھانے کا شائد کچھ اثر نہ ہوتا۔ نہرو رپورٹ کی تجویز کا مسلمانوں کا مطالبہ پورا کرنے پر حکومت کا طریق کیا ہو گا بودا پن بتانے کے بعد میں اب یہ بتاتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کا مطالبہ پورا کیا جائے تو ہندوستان کی حکومت کا طریق یہ ہو گا کہ سب صوبہ جات اپنے اپنے علاقہ میں خود مختار حکومتیں سمجھے جائیں گے۔ جو اپنے فوائد اور ہندوستان کے مجموعی فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔ اس امر پر اتفاق کریں گے کہ