انوارالعلوم (جلد 10) — Page 414
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۱۴ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح آسام میں ایسی حکومت ہوگی۔ جس میں ہندو عنصر زیادہ ہو گا لیکن باوجود اس کے کہ صوبہ جات کو بعض اختیار حاصل ہونگے۔ وہ قانونی طور پر مرکزی حکومت کے گماشتے ہونگے جس میں ہندو عصر مسلم عصر سے بہت زیادہ ہو گا۔ اب اس حالت میں دیکھ لو کہ ہندو کیا کچھ نہ کر سکیں گے۔ فرض کرو کل کو پنجاب اور بنگال میں مسلمان، یونیورسٹی کے متعلق فیصلہ کریں کہ اس میں مسلمان عصر نسبت آبادی کے مطابق ہو یا ملازمتوں کے متعلق فیصلہ کریں کہ ان میں مسلم عنصر آبادی کے تناسب سے ہو مرکزی حکومت اس میں دخل دے دے کہ ہمارے نزدیک یہ قانون فرقہ وارانہ اصول پر مبنی ہے۔ اسے ہم روکنا چاہتے ہیں۔ پنجاب اور بنگال اس امر کو تسلیم نہ کریں اور اپنے منشاء کو پورا کرنے پر زور دیں۔ مرکزی حکومت اس پر ایک مسودہ پیش کر دے کہ پنجاب اور بنگال نے چونکہ اپنے آپ کو حکومت کا اہل ثابت نہیں کیا۔ اس لئے اس سے فلاں فلاں حقوق مرکزی حکومت واپس لیتی ہے۔ یا اس کی حکومت کا نظام پوری طرح بدل کر اس اس طرح کرتی ہے۔ بتاؤ کہ اس وقت مسلمانوں کا کیا حال ہو گا۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے۔ کہ ایسا کیوں ہو گا۔ اس وقت بھی گورنمنٹ بعض میونسپل کمیٹیوں کے ساتھ ایسا کرتی ہے کہ ان پر بعض الزامات لگا کر ان کے حقوق واپس لے لیتی ہے۔ مرکزی حکومت کو حکومت کا مالک قرار دے کر صوبہ جات کی حیثیت میون میونسپل کمیٹیوں سے زیادہ نہ ہوگی۔ انہیں جس قدر بھی اختیارات دے دو پھر بھی وہ مختار عام سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ مالک مرکزی حکومت ہوگی۔ وہ جس وقت چاہے گی اپنے مختار نامہ کو منسوخ کر دے گی، پھر مسلمانوں کے پاس کیا رہ جائے گا۔ بنگال اور پنجاب کی مسلم اکثریت کس طرح اقلیت بنائی جاسکتی ہے ہیں ایک اور مثال لیتا ہوں اور وہ یہ روت کہ نہرو رپورٹ کی مرکزی حکومت صوبہ جات کی حدود کو تبدیل کر سکتی ہے۔ بیشک آج مسلمان پنجاب اور بنگال میں اکثریت حاصل کر لیں ، حقوق بھی لے لیں لیکن پنجاب اور بنگال چونکہ اصل مالک نہ ہونگے ۔ بلکہ گماشتے ہونگے، اس لئے کل کو اگر مرکزی حکومت یہ فیصلہ کر دے کہ آسام کو بنگال کے ساتھ ملا دیا جائے تو اس کے راستے میں کوئی روک نہیں۔ یا اڑیا علاقے بہار سے نکال کر بنگال کے ساتھ ملا دیں۔ اس بہانہ سے کہ اُڑیا قوم چھوٹی ہے، اس کا الگ صوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس لئے ان سب کو بنگال میں جمع کر دو تو مسلمانوں کا کوئی بس نہیں چل سکے گا۔ اور اس ایک تغیر سے جو بظاہر بالکل غیر فرقہ وارانہ معلوم ہو گا، بنگال کے