انوارالعلوم (جلد 10) — Page 406
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۰۶ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح کوئی شک نہیں کہ تہذیب اور تمدن کے اصول کے لحاظ سے مسلمانوں کو ہندوؤں پر برتری حاصل ہے۔ ان میں چھوت چھات نہیں ہے۔ ان میں ایک حد تک قومی مساوات ہے۔ ان میں شادی بیاہ کی رسومات ہندوؤں کی نسبت بہت کم ہیں۔ بیوہ کی شادی کا دستور ابھی بہت حد تک باقی ہے۔ غرض ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی بنیاد ہندوؤں سے بالکل الگ اصول پر ہے۔ اور ہندو سمجھتے ہیں کہ نہ تو اس تہذیب اور تمدن کو ہم کچل سکتے ہیں اور نہ اس کی موجودگی میں ہم اپنی قدیم روایات کے مطابق ترقی کر سکتے ہیں۔ پس اس حالت میں خوف ہے کہ وہ اسلامی تہذیب اور تمدن کی آزاد نشوو نما کے راستہ میں روک ڈالیں گے۔ تیسرا سبب جو اکثریت کو اقلیت پر ظلم کرنے کی طرف راغب کرتا ہے یہ ہے کہ تیسری وجہ اقلیت دائمی اقلیت ہو ۔ یعنی اس میں میں کوئی ایسی بات پائی ۔ بات پائی جائے جو اسے اپنی جگہ تبدیل کرنے سے مانع ہو۔ اس صورت میں اکثریت یہ ۔ اکثریت یہ خیال کرتی ہے کہ چونکہ اس اقلیت کو ہم جذب نہیں کر سکے ، آؤ اسے ہم مٹا دیں۔ یہ وجہ بھی اس وقت موجود ہے۔ اسلام ایک ایسا ممتاز مذہب ہے جس نے سیاست تمدن اخلاق اور معاملات کے لئے ایک ممتاز اور مستقل دستور العمل پیش کیا ہے۔ پس مسلمان دوسری اقوام کی طرح ان مسائل کے متعلق جن پر اسلام نے روشنی ڈالی ہے ، سمجھوتہ نہیں کر سکتا اور نہ دوسرے کا رنگ قبول کر سکتا ہے۔ عام طور پر اکثریتوں کو جب یہ یقین ہوتا ہے کہ اقلیت کو اس کی جگہ پر باندھ رکھنے والی کوئی چیز نہیں۔ تو وہ امید کرتی ہے۔ کہ کچھ عرصہ میں یا تو اقلیت ہم میں جذب ہو جائے گی۔ یا پھر کھوئی جائے گی۔ یعنی بعض باتیں اپنی چھوڑ دے گی۔ اور بعض ہماری مان لے گی۔ جیسا کہ مثلاً پرانے زمانہ میں ہندوستان میں ہوا۔ کہ باہر سے آنے والی اقوام نے ہندوؤں کے دیوتاؤں کو قبول کر لیا اور ہندوؤں نے ان کے بعض معبودوں کو قبول کر لیا۔ اسی طرح باہر سے آنے والی اقوام نے ہندوؤں کے سب سے بڑے تمدنی دستور یعنی قومیت کے اصول کو تسلیم کر لیا اور چاروں ورنوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شامل ہو گئیں اسلام کی موجودگی میں مسلمان ایسا نہیں کر سکتے۔ پس ہندو یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اسلام ہے اس وقت تک تمدن اور تہذیب میں مسلمانوں کا ہمارا دباؤ تسلیم کرنا نا ممکن ہے۔ پس لازما وہ یہ کوشش کریں گے اور اب بھی کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو یا ہندوستان سے نکال دیں یا اپنے ساتھ شامل کر لیں۔